Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اللہ پر ڈالتے ہوئے یک طرفہ طور پر اس کو ختم کرلے۔ اجتماعی امن کے قیام کا بلا شبہ یہ سب سے زیادہ اہم اصول ہے۔ 6۔ ابن ابی السائب تابعی مدینہ کے ایک واعظ تھے۔ وہ مسجع دعائیں بنا کر پڑھا کرتے اور وہ ہر وقت لوگوں کے سامنے وعظ کے لیے آمادہ رہتے۔ عائشہ صدیقہ نے اُن سے خطاب کر کے کہا کہ تم مجھ سے تین باتوں کا عہد کرو، ورنہ میں بزور تم سے باز پرس کروں گی۔ اُنہوں نے کہا کہ اے ام المومنین، وہ کیا باتیں ہیں۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ دعاؤں میں عبارتیں مسجع نہ کرو کیوں کہ آپ کے اصحاب ایسا نہیں کرتے تھے۔ ہفتہ میں صرف ایک دن وعظ کہا کرو۔ اگر یہ منظور نہ ہو تو دو دن اور اس سے بھی زیادہ چاہو تو تین دن۔ لوگوں کو خدا کی کتاب سے اکتانہ دو۔ ایسا نہ کیا کرو کہ لوگ جہاں بیٹھے ہیں وہاں آ کر بیٹھ جاؤ اور بات کاٹ کر اپنا وعظ شروع کر دو۔ بلکہ جب ان کی خواہش ہو اور وہ درخواست کریں، تب کہو (مسند احمد، حدیث نمبر 25820)۔ عائشہ صدیقہ کی اس روایت سے دین کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ دین کی اصل روح کے مطابق ، دعا قلبی جذبات کا مخلصانہ اظہار ہے جب کہ مسجع دعائیں تصنع اور منافققت کا انداز شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح وعظ نصیحت کا ایک کلمہ ہے اور خیر خواہانہ نصیحت میں ہمیشہ مدعو کی رعایت شامل رہتی ہے۔ اسی طرح یہ کہ مومن کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی بات کو غور سے سنے اور جو بات کہے اس میں لوگوں کے مزاج کی رعایت ہو۔ 7۔ ایک شخص نے عائشہ صدیقہ سے سوال کیا۔ اُس نے کہا کہ اے ام المومنین، بعض لوگ ایک رات میں قرآن دو دو، تین تین بار پڑھتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ اُنہوں نے پڑھا مگر اُنہوں نے نہیں پڑھا (أوْ لَبَكِ قَرَءُوا ، وَلَمْ يَقْرَءُوا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے۔ لیکن سورۃ البقرہ، آل عمران اور سورۃ النساء سے آگے نہیں بڑھتے تھے۔ آپ جب کسی بشارت کی آیت پر پہنچتے تو خدا سے دعا مانگتے اور جب کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page