Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

وعید کی آیت پر پہنچتے تو پناہ مانگتے (مسند احمد، حدیث نمبر 24609)۔ اس روایت سے دو چیزوں کے بارے میں دین کی روح معلوم ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ قرآن کی تلاوت کیسے کی جائے۔ اور دوسرے یہ کہ نفل نماز کی اصل صورت کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں کام عام طور پر اپنے حجرے میں کرتے تھے۔ اس لحاظ سے اس اہم حقیقت کا علم بقیہ دنیا کو صرف آپ کی رفیقہ حیات کے ذریعہ ہو سکتا تھا۔ عائشہ صدیقہ نے امت کے لیے یہی کام انجام دیا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے سلسلہ میں اصلاً جو چیز مطلوب ہے وہ تدبر ہے، نہ کہ وہ چیز جس کو عام طور پر ختم قرآن کہا جاتا ہے۔ 8۔ کعبہ پر جب نیا غلاف چڑھایا جاتا ہے اور پرانا غلاف اُتار لیا جاتا ہے تو یہ سوال ہوتا ہے کہ پرانے غلاف کو کیا کیا جائے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ تعظیم اور ادب کے نقطۂ نظر سے پرانے غلاف کو زمین میں دفن کر دیا جاتا تھا۔ شیبہ بن عثمان نے جو اس زمانہ میں کعبہ کے کلید بردار تھے، عائشہ صدیقہ سے بیان کیا کہ ہم سارے غلاف کو اکٹھا کر کے ایک گہرا کنواں کھود کر اُس میں دفن کر دیتے ہیں۔ تاکہ ناپاکی کی حالت میں لوگ اس کو پہن نہ لیں۔ عائشہ صدیقہ نے شیبہ سے کہا کہ یہ تو اچھی بات نہیں۔ تم برا کرتے ہو۔ جب وہ غلاف کعبہ پر سے اتر گیا تو وہ عام کپڑا ہے۔ اب اگر کسی نے ناپاکی کی حالت میں اُس کو پہن بھی لیا تو کوئی مضائقہ نہیں (اِنَّ ثِیَابَ الْکَعْبَةِ إِذَا نُزِعَتْ مِنْهَا لَمْ یَضُرَّهَا أَنْ یَلْبَسَهَا الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ)۔ تم کو چاہیے کہ اس کو بیچ دیا کرو اور اس کے جو دام آئیں وہ غریبوں اور مسافروں کو دے دیا کرو (السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر 9731)۔ عائشہ صدیقہ نے اپنی بصیرت سے یہ سمجھا کہ یہ تعظیم غیر شرعی ہے جس کا خدا اور اس کے رسول نے حکم نہیں دیا۔ عائشہ صدیقہ کی یہ بات دین کی اصل روح کے عین مطابق ہے۔ مگر یہ ایک نازک بات ہے کہ جس کو کہنے کی جرأت ایک عام مسلمان نہیں کر سکتا۔ عائشہ صدیقہ کو پیغمبرِ اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page