عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
کی مسلسل صحبت کے ذریعہ دین کا جو فہم صحیح ملا تھا اُس نے اُن کے اندر یہ ہمت پیدا کی کہ وہ یقین کے ساتھ اس بات کا اعلان کر سکیں ۔ اس طرح کی اور بہت سی باتیں عائشہ صدیقہ سے حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ عائشہ صدیقہ کی اس قسم کی روایتیں یہ بتاتی ہیں کہ عائشہ صدیقہ کا ابتدائی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور رفاقت میں آنا دینی نقطہ نظر سے کتنا اہم تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دین کی بہت سی گہری حکمتیں بعد کے لوگوں کے علم ہی میں نہ آتیں۔ کیوں کہ وہ پیغمبر سے قریبی استفادہ ہی کے ذریعہ معلوم ہو سکتی تھیں۔ عائشہ صدیقہ کی ایک اہم روایت ہے۔ صحیح البخاری میں اس روایت کو اُس کے مختلف پہلوؤں کی بنا پر کئی باب کے تحت نقل کیا گیا ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں : مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3560)۔ یعنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے۔ عائشہ صدیقہ اپنی اس روایت میں پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی بیان کرتی ہیں۔ وہ یہ کہ عملی زندگی میں پیغمبر اسلام کا مستقل طریقہ یہ تھا کہ جب بھی آپ کے سامنے دو میں سے ایک کے انتخاب کا سوال ہوتا تو آپ ہمیشہ یہ کرتے کہ مشکل انتخاب (harder option) کو چھوڑ دیتے، اور آسان انتخاب (easier option) کو لے لیتے۔ پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کے بارے میں یہ نکتہ اتنا زیادہ عمیق ہے کہ اُس کو ایک شخص لمبی صحبت کے بعد ہی اخذ کر سکتا ہے ، بشر طیکہ وہ غیر معمولی ذہانت کا حامل ہو۔ اس معاملہ میں پیغمبر اسلام کا کوئی قول انہی الفاظ میں وارد نہیں ہوا ہے۔ مگر اس میں شک نہیں کہ اصولاً وہ آپ کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ وہ سیرت رسول کو سمجھنے کے لیے بے حد اہم ہے۔ مثلاً مکہ میں آپ نے توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ اس کی ایک صورت یہ تھی کہ آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader