Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

مقدّس کعبہ میں رکھے ہوئے 360 بتوں کو توڑنے سے اپنے مشن کا آغاز کرتے۔ مگر آپ نے بتوں کے مسئلہ سے اعراض کرتے ہوئے پرامن دعوت سے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ یہ بلاشبہ اختیارِ اعسر کو لینے کے مقابلہ میں اختیارِ ایسر کو لینے کا معاملہ تھا۔ اسی طرح مکی دور کے آخر میں آپ کے سامنے دو میں سے ایک کے انتخاب کا مسئلہ تھا، یا تو مشرکین مکہ سے قتال کریں یا مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں۔ آپ نے دوسرے طریقہ کا انتخاب کیا جو بلاشبہ اختیارِ اعسر کے مقابلہ میں اختیارِ ایسر کو لینے کا معاملہ تھا۔ اسی طرح ہجرت کے بعد حدیبیہ کے مقام پر آپ کے لیے دو میں سے ایک کے انتخاب کا سوال تھا۔ یا تو مشرکین کی رکاوٹ کو توڑ کو عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ جانے کی کوشش کریں، یا حدیبیہ سے واپس ہو کر مدینہ آ جائیں۔ پہلا طریقہ جنگ کا طریقہ تھا اور دوسرا طریقہ صلح کا طریقہ۔ آپ نے اس معاملہ میں صلح کے طریقہ کو لے لیا جو اختیارِ اعسر کے مقابلہ میں اختیار ایسر کو لینے کے ہم معنی تھا۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اسی حکیمانہ تدبیر کی مثال ہے۔ عائشہ صدیقہ نے پیغمبر اسلام کے ساتھ تبادلہ خیال اور آپ کی عملی زندگی کے گہرے مطالعہ کے بعد اس راز کو دریافت کیا اور امت کو بتایا۔ پیغمبر اسلام کی سیرت کا یہ اہم راز غالباً کسی دوسرے مرد یا عورت کے ذریعہ دنیا کو معلوم نہ ہو سکا۔ روایتوں کی تصحیح عائشہ صدیقہ کا ایک منفرد کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بہت سی ایسی روایتوں کی تصحیح کی جو پیغمبر اسلام کے قول کی صحیح ترجمانی نہیں کر رہی تھیں ۔ پیغمبر اسلام سے جو حدیثیں منقول ہیں وہ زیادہ تر مجلس کی گفتگو سے تعلق رکھتی ہیں ۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ کوئی صحابی مجلس کے درمیان میں آیا۔ اُس نے آپ کی گفتگو کا کچھ حصہ سنا اور کچھ حصہ نہیں سنا۔ اسی طرح کسی صحابی نے پیغمبر اسلام کی ایک بات سنی مگر وہ اس سے باخبر نہ تھا کہ آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page