Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

نے یہ بات کس بیک گراؤنڈ میں کہی ہے۔ اس طرح کے مختلف اسباب سے بعض صحابہ کی روایتوں میں ابہام واقع ہو گیا۔ اُن کی بیان کردہ روایت سے پیغمبرِ اسلام کی صحیح ترجمانی نہ ہوسکی۔ یہ کام عائشہ صدیقہ نے انجام دیا۔ عائشہ صدیقہ کو آپ کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے ہر روز آپ کی صحبت ملتی تھی ۔ وہ آپ کی رفیقۂ حیات ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں تھیں کہ وہ باتوں کو زیادہ تفصیل سے اور زیادہ گہرائی کے ساتھ جان سکیں ۔ چنانچہ اپنی اس امتیازی صفت کی بنا پر انہوں نے یہ اہم کام انجام دیا کہ صحابہ کی جن روایتوں میں پیغمبرِ اسلام کے ارشاد کی ترجمانی خلاف واقع ہوئی تھی اُن روایتوں کو انہوں نے اُن کی صحیح صورت میں پیش کیا۔ روایتوں میں اس قسم کی تصحیح کو محدثین کی اصطلاح میں استدراک کہا جاتا ہے۔ متعدد ائمہ حدیث نے ان استدراکات کو یکجا کیا ہے ۔ اسی قسم کا ایک رسالہ وہ ہے جس کو جلال الدین السیوطی نے تیار کیا۔ اس رسالہ کا نام یہ ہے: عین الاصابة في استدراك عائشة على الصحابة۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: ا۔ صحیح البخاری کی ایک روایت کے مطابق ، عبد اللہ بن عمر نے غسل کے بارے میں روایت کرتے ہوئے کہا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 894)۔ یعنی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو شخص جمعہ میں آئے اس کو چاہیے کہ وہ غسل کرے ۔ عبداللہ بن عمر نے مذکورہ حدیث کو سادہ طور پر بیان کیا ۔ بظاہر اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ایک مطلق حکم ہے۔ مگر اسی حدیث کو عائشہ صدیقہ نے روایت کیا تو انہوں نے اس کا سبب بھی بیان کر دیا۔ یہ سبب انہوں نے یقینی طور پر پیغمبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page