عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کی صحبت سے معلوم کیا تھا۔ عائشہ صدیقہ حدیث کو اس طرح بیان کرتی ہیں: قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَنْتَابُونَ يَوْمَ الجُمُعَةِ مِنْ مَنَازِلِهِمْ وَالعَوَالِي، فَيَأْتُونَ فِي الغُبَارِ يُصِيبُهُمُ الغُبَارُ وَالعَرَقُ، فَيَخْرُجُ مِنْهُمُ العَرَقُ، فَأْتُى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانُ مِنْهُمْ وَهُوَ عِنْدِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّكُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِيَوْمِكُمْ هَذَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 902)۔ یعنی، لوگ اپنے اپنے گھروں سے اور مدینہ کے باہر کی آبادیوں سے جمعہ کے روز آتے اور وہ گردو غبار اور پسینہ میں ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ اُن میں سے ایک شخص آپ کے پاس آیا، اس وقت آپ میرے پاس تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہتر ہوتا اگر تم اس دن غسل کر لیا کرتے۔ عبداللہ بن عمر کی روایت میں قول رسول کو مطلق طور پر نقل کیا گیا ہے جس سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ غسل گویا جزء نماز ہے۔ مگر عائشہ صدیقہ نے اس قول رسول کو اس کے صحیح پس منظر میں بیان کیا۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غسل کی حیثیت ایک جسمانی ضرورت کی ہے، وہ نماز کا عبادتی جزء نہیں۔ 2۔ عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر اور بعض صحابہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اِنَّ المَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1286)۔ یعنی۔ مردہ پر اُس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔ یہ روایت جب عائشہ صدیقہ کے سامنے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک دن آپ ایک یہودی عورت کے جنازہ پر گزرے، اُس کے رشتہ دار اُس پر رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ رو رہے ہیں جب کہ اس عورت پر عذاب ہو رہا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 932)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader