Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

عائشہ صدیقہ کا کہنا یہ ہے کہ رونا عذاب کا سبب نہیں ہے۔ بلکہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ یعنی نوحہ کرنے والے اس کی موت پر رورہے ہیں جب کہ مرنے والا اپنے گزشتہ اعمال کی سزا میں مبتلا ہے۔ رونا دوسروں کا فعل ہے جس کا عذاب یہ رونے والے خود اٹھائیں گے۔ مردہ اس کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا۔ ہر شخص اپنے فعل کا خود جواب دہ ہے۔ مذکورہ قول رسول کے بارے میں عائشہ کی یہ وضاحت بتاتی ہے کہ اس طرح کے معاملات میں پیغمبر اور عائشہ کے درمیان باقاعدہ گفتگو ہوتی تھی۔ اس گفتگو کے دوران عائشہ پر وہ باتیں کھلتی تھیں جس سے عام لوگ بے خبر رہتے تھے۔ سو۔ غزوہ بدر میں جو مشرکین مارے گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے مقام دفن پر کھڑے ہو کر فرمایا : فَهَلْ وَجَدْتُُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ( 7:44 ) ۔ خدا نے تم سے جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے اُس کو سچا پایا۔ صحابہ نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، آپ مردوں کو پکارتے ہیں ۔ ابن عمر غالباً عمر سے اور انس بن مالک ابو طلحہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اس کے جواب میں فرمایا: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعِ مِنْهُمْ، وَلَكِنْ لَا يُجِيبُونَ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 1370 ) ۔ تم ان سے زیادہ نہیں سنتے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ عائشہ صدیقہ سے جب یہ روایت بیان کی گئی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کہا بلکہ آپ نے یہ فرمایا: إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الآنَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (1371)۔ اس وقت وہ جان گئے ہیں کہ میں اُن سے جو کچھ کہتا تھا وہ سچ تھا۔ عائشہ صدیقہ نے جو بات کہی وہ گہرے دینی فہم کی بنا پر تھی۔ یہ استثنائی قسم کا گہرا دینی فہم عائشہ کو کہاں سے ملا۔ اس کا جواب یقینی طور پر صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ دینی فہم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page