Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

اُنہیں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبی استفادہ کے ذریعہ حاصل ہوا۔ 4۔ کچھ لوگوں نے عائشہ صدیقہ سے آکر بیان کیا کہ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بد شگونی تین چیزوں میں ہے، عورت میں، گھوڑے میں اور گھر میں۔ عائشہ نے کہا کہ یہ صحیح نہیں۔ ابو ہریرہ نے آدھی بات سنی اور آدھی نہیں سنی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل یہ فرمایا تھا کہ یہود کہتے ہیں کہ بد شگونی تین چیزوں میں ہے عورت میں، گھوڑے میں اور گھر میں (مسند ابی داؤد الطيالسی، حدیث نمبر 1641 ؛ مسند احمد، حدیث نمبر 25168)۔ عائشہ کی مذکورہ وضاحت بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ اگر انہوں نے یہ وضاحت نہ کی ہوتی تو ابو ہریرہ کی روایت کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لیے اس معاملہ میں ایک ابہام باقی رہتا جس کو کوئی دوسرا شخص کھول نہیں سکتا تھا۔ 5۔ عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار اللہ کو دیکھا۔ ایک بار معراج کے موقع پر اور دوسری بار اُس موقع پر جس کا ذکر سورہ النجم میں آیا ہے۔ مسروق تابعی نے اس کے حوالہ سے عائشہ صدیقہ سے پوچھا کہ اے ام المومنین ، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا تھا۔ عائشہ صدیقہ نے کہا کہ تم ایسی بات بولے جس کو سن کر میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ جو تم سے یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا وہ جھوٹ کہتا ہے: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ۔ پھر یہ آیت پڑھی: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (6:103)۔ یعنی، نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے اور وہ لطیف ہے، خبر رکھنے والا ہے۔ اس کے بعد عائشہ نے یہ دوسری آیت پڑھی: وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ (42:51)۔ کسی انسان کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اللہ اُس سے باتیں کرے مگر وحی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page