عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ذریعہ یا پردہ کے پیچھے سے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4855)۔ عائشہ صدیقہ نے اس معاملہ میں جو وضاحت کی اس کے لیے غیر معمولی دینی جرأت درکار تھی۔ یہ دینی جرأت کسی ایسے ہی شخص میں ہوسکتی ہے جس نے لمبی مدت تک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی ہو اور اس طرح کے امور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے تبادلۂ خیال کر کے دین میں گہری بصیرت حاصل کی ہو۔ 6۔ ابو سعید خدری کا انتقال ہونے لگا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے۔ اس کا سبب انہوں نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان جس لباس میں مرتا ہے، اسی میں وہ اٹھایا جاتا ہے۔ عائشہ صدیقہ کو جب یہ واقعہ معلوم ہوا تو کہا کہ خدا ابو سعید پر رحم کرے۔ لباس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود انسان کے اعمال ہیں۔ ورنہ آپ کا تو یہ صاف ارشاد ہے کہ لوگ قیامت میں ننگے بدن، ننگے پیر اور ننگے سر اٹھیں گے (عین الاصابہ للسیوطی، صفحہ 49)۔ عائشہ صدیقہ کی اس وضاحت سے ایک حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ حدیث کو سمجھنے کے لیے بعض اوقات ضروری ہوتا ہے کہ ایک قول کو اس کے لفظی معنی میں نہ لیا جائے بلکہ اس کو علامتی معنی میں لیا جائے۔ 7۔ ایک مرتبہ آپ نے حکم دیا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ رکھا جائے۔ ظاہری الفاظ کی بنا پر کچھ صحابہ اس حکم کو دائمی سمجھتے تھے۔ عائشہ صدیقہ نے اس ارشاد کی حکمت بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک وقتی حکم تھا۔ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ کیا تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے۔ عائشہ نے کہا کہ: لا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، فَفَعَلَ ذَلِكَ لِيُطْعِمَ مَنْ ضَحَّى مَنْ لَمْ يُضَحِّ (مسند احمد، حدیث نمبر 24707)۔ نہیں، اس زمانہ میں چند لوگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader