عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
قربانی کر سکتے تھے۔ اس لیے آپ نے حکم دیا تا کہ جو قربانی کریں وہ ان کو کھلائیں جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے۔ عائشہ صدیقہ کی اس تصحیح سے مزید یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قربانی کے گوشت کو جدید طریقوں کے مطابق، لمبی مدت تک محفوظ رکھنا جائز ہے۔ موجودہ زمانہ کی نسبت سے یہ وضاحت بے حد اہم ہے۔ اگر عائشہ صدیقہ کی یہ وضاحت موجود نہ ہوتی تو مذکورہ حدیث کی حکمت معلوم کرنا ممکن نہ ہوتا اور قربانی کے گوشت کو محفوظ کر کے اس کو دیر تک استعمال کرنا لوگوں کو اسلام کی تعلیم کے خلاف معلوم ہوتا۔ 8- عائشہ صدیقہ کے پاس قبیلہ بنو عامر کے دو آدمی آئے۔ انہوں نے کہا کہ ابو ہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدشگونی تین چیزوں میں ہے، گھر میں اور عورت میں اور گھوڑے میں۔ عائشہ صدیقہ اس پر بہت زیادہ غصہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے مجھ پر قرآن کو اتارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز ایسا نہیں کہا۔ آپ نے جو کہا وہ یہ تھا کہ جاہلیت کے لوگ ان تینوں چیزوں سے بدشگونی لیتے تھے (مسند احمد، حدیث نمبر 26034)۔ غالبا راوی نے اپنی سادگی کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو پوری طرح نہیں سمجھا۔ آپ نے جو بات جاہلیت کے لوگوں کے بارے میں کہی تھی اُس کو انہوں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا۔ مگر عائشہ صدیقہ اپنی غیر معمولی ذہانت اور مسلسل محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنا پر دین کے مزاج کو پوری طرح سمجھ چکی تھیں۔ اسی لیے انہیں اصل بات کو سمجھنے میں دیر نہیں تھی۔ انہوں نے راوی کی بات کو سن کر فورا اپنے فہم و دین کی بنا پر اس حقیقت کو چھولیا اور فورا اس کی تردید کر کے اصل بات کو بیان کیا۔ ان چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ کا کنٹری بیوشن اسلام میں کتنا زیادہ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے عائشہ کی روایات کا مطالعہ بے حد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader