عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
اہم ہے۔ عائشہ کے ذریعہ کے لوگوں کو جو چیزیں ملیں ان کا غالباً سب سے زیادہ اہم حصہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور اپنی پوری زندگی اسلام کے لیے وقف کر دینے کے نتیجہ میں گہری دینی بصیرت حاصل کی_ حتی کہ اس دینی بصیرت میں غالباً کوئی اور ان کا ثانی نہیں_ پھر اس دینی بصیرت کے تحت انہوں نے تقریباً نصف صدی تک امت کو براہ راست رہنمائی دی_ اور جہاں تک بالواسطہ رہنمائی کا تعلق ہے وہ آج تک جاری ہے اور بلا شبہ قیامت تک جاری رہے گی۔ اصل یہ ہے کہ دین کی دو سطحیں ہیں۔ ایک ظاہر دین، اور دوسرا حقیقت دین_ وہ عورت یا مرد جو ظاہری سطح پر دین کو پائیں انہوں نے گویا ایک پھل کو ایک چھلکے کی سطح پر پایا اور جو عورت یا مرد دین کو اس کی گہری معنویت کی سطح پر پائیں انہوں نے گویا پھل کے مغز کو پالیا۔ پھل کو پانے والے دراصل یہی دوسری قسم کے لوگ ہیں۔ عائشہ صدیقہ نے خدا کے دین کو اس کی حقیقت اور معنویت کی سطح پر پایا۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف اپنے آپ کو ایک اعلیٰ ربانی شخصیت بنایا بلکہ اپنی زندگی سے انہوں نے اس کی ایک اعلیٰ تاریخی مثال بھی قائم کر دی کہ کوئی عورت یا مرد دین میں معرفت کے اس اعلی درجہ کو کس طرح حاصل کر سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی عمر میں آپ کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا جو عمر میں آپ سے پندرہ سال بڑی تھیں_ اور آپ کی عمر کے آخری حصہ میں آپ کا نکاح عائشہ سے ہوا جو عمر میں آپ سے بہت کم تھیں۔ یہ دونوں ہی بے حد اہم تھیں_ کیوں کہ پیغمبر اسلام کی ابتدائی زندگی میں آپ کو ایک تجربہ کار خاتون کی ضرورت تھی، جب کہ آپ کی آخر عمر میں عائشہ جیسی ایک کم عمر خاتون درکار تھیں، جیسا کہ اگلے باب سے واضح ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader