عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر نکاح کا مسئلہ عائشہ صدیقہ کے بارے میں ایک سوال ان کے نکاح کی عمر سے تعلق رکھتا ہے۔ حدیث کی کتابوں میں صحیح روایات سے آیا ہے کہ عائشہ صدیقہ کا نکاح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ میں ہوا۔ اس وقت عائشہ صدیقہ کی عمر صرف چھ سال تھی۔ اس کے بعد مدینہ میں ان کی رخصتی ہوئی اور رخصتی کے وقت عائشہ صدیقہ کی عمر 9 سال تھی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5133)۔ موجودہ زمانہ میں اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مستشرقین نے عمر کے معاملہ کو لے کر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ سیرت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کم سن لڑکی سے نکاح کرنا ناشریفانہ اخلاق کے خلاف ہے اور یہ کہ اس قسم کا فعل کسی کی پیغمبری کو مشتبہ ثابت کرتا ہے۔ قدیم زمانہ میں بھی یہ سوال پایا جاتا تھا مگر وہ موجودہ شدت کے ساتھ نہ تھا۔ لوگ فقہی بنیاد پر نہ کہ اخلاقی بنیاد پر سوال کرتے تھے کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک زیادہ عمر کا انسان کم عمر غیر بالغ بچی سے نکاح کرے۔ اس کا جواب قدیم علماء نے روایتی انداز میں دینے کی کوشش کی۔ مثلاً ابن حزم نے ابن شبرمہ سے ان کا جواب ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عائشہ سے چھ سال کی عمر میں نکاح کرنا آپ کی نبوت کے خصائص میں سے تھا: وَزَعَمَ أَنَّ تَزْوِيجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ كَانَ مِنْ خَصَائِصِهِ (فتح الباری، جلد 9، صفحہ 190)۔ یہ توجیہ غیر منطقی ہے۔ کیوں کہ نبی کے خصائص اس کے پیغمبر خدا ہونے کے اعتبار سے ہوتے ہیں، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ چنانچہ کسی اور پیغمبر سے اس قسم کا نکاح ثابت نہیں۔ موجودہ زمانہ میں علماء نے مختلف انداز سے اس مسئلے کا دفاع کرنے کی کوشش کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader