Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا سید سلیمان ندوی اپنی کتاب میں اس موضوع پر کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں: حضرت عائشہ کا جب نکاح ہوا تھا تو وہ اس وقت چھ برس کی تھیں۔ اس کم سنی کی شادی کا اصل منشا نبوت اور خلافت کے درمیان تعلقات کی مضبوطی تھی۔ ایک تو خود عرب کی گرم آب وہوا میں عورتوں کے غیر معمولی نشوونما کی طبعی صلاحیت ہے، دوسرے عام طور پر بھی دیکھا گیا ہے کہ جس طرح ممتاز اشخاص کے دماغی اور ذہنی قوٰی میں ترقی کی غیر معمولی استعداد ہوتی ہے، اسی طرح قد وقامت میں بھی بالیدگی کی خاص قابلیت ہوتی ہے۔ اس کو انگریزی میں پری کانٹس کہتے ہیں (سید سلیمان ندوی، سیرت عائشہ، مطبوعہ دار المصنفین، اعظم گڑھ، صفحہ 24)۔ سید سلیمان ندوی کی کتاب میں اس لفظ کو پری کانٹس لکھا گیا ہے۔ کتاب میں اس کی انگریزی اسپیلنگ درج نہیں۔ میرے خیال کے مطابق، غالباً مصنف کی مراد جس انگریزی لفظ سے ہے وہ پری کانٹس نہیں ہے بلکہ وہ (precocious) ہے۔ پری کا شش کا مطلب انگریزی زبان میں قبل از وقت نشوونما ہے: Precocious: Ripe before the proper or natural time, premature, developed or matured earlier than usual (Webster) (of a child) having developed particular abilities and ways of behaving at a much younger age than usual, sexually precocious.(Oxford) اگرچہ حدیث یا تاریخ سے ثابت نہیں کہ عائشہ صدیقہ کا کیس قبل از وقت بالیدگی کا کیس تھا۔ اگر معاملہ میں ہی تمام تر ایک مفروضہ ہے۔ تاہم اصل مسئلہ کی نسبت سے یہ جواب ایک غیر متعلق جواب ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ صحیح روایات میں عددی تعین کے ساتھ یہ بات آئی ہے کہ چھ سال میں نکاح اور نو سال میں رخصتی۔ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر اس وقت پچاس سال سے زیادہ ہو چکی تھی۔ اصل سوال عمر میں اسی ثابت شدہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page