عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
فرق کے بارے میں ہے، نہ کہ بالیدگی کے بارے میں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ : عربوں میں شادی سے پہلے، رشتے کے متعلق بات طے کر لینے کا رواج تھا۔ یہ وہی چیز تھی جسے ہمارے ہاں نسبت ٹھہرانا یا منگنی کرنا کہتے ہیں۔ قرآن میں صرف نکاح کا ذکر ہے، نسبت اور منگنی کا نہیں۔ لہذا روایات میں جو کہا گیا ہے کہ عائشہ کا نکاح چھ برس کی عمر میں ہوا اور رخصتی نو برس کی عمر میں، تو وہاں نکاح سے مقصود، عربی معاشرہ کی رسم کے مطابق، رشتے کی بات چیت کا طے پانا (یا منگنی کرنا) ہے اور رخصتی سے مراد شادی ہے ( غلام احمد پرویز، طاہرہ کے نام خطوط، عائشہ کی عمر، صفحہ 2-1)۔ یہ توجیہ بھی درست نہیں۔ احادیث میں جب نکاح کا لفظ آیا ہے تو اس کو ہمیں نکاح کے معروف معنی ہی میں لینا ہوگا۔ نکاح کے لفظ کو کسی اور معنی میں لینے کے لیے خود متن حدیث میں اس کا ثبوت ملنا چاہیے جو کہ موجود نہیں۔ مزید یہ کہ اس توجیہ سے اصل اعتراض ختم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ نکاح کی عمر خواہ چھ سال مانی جائے یا نو سال، دونوں حالتوں میں وہ کم عمری ہی کی شادی ہے۔ پھر اس توجیہ کا کیا فائدہ۔ اسی طرح کچھ لوگ ایک اور نکتہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں : عائشہ صدیقہ نے صحابہ کی مرویات پر تنقید کی اور کہا: ’’ میں تو نہیں کہتی کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں لیکن کان سننے میں غلطی کر جاتے ہیں‘‘۔ بخاری ومسلم میں اس قسم کی متعدد تنقیدات موجود ہیں ۔ اس سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ بعض اوقات راوی انتہائی معتبر ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اس کی بیان کردہ روایت غلط ہو جاتی ہے۔ کبھی اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ راوی نے ادھوری بات سنی ہوتی ہے۔ کبھی راوی مفہوم غلط سمجھ بیٹھتا ہے، کبھی اس سے بھول واقع ہوتی ہے۔ ہم بھی بقول ام المومنین یہ کہتے ہیں کہ راوی سے سننے میں غلطی ہوئی۔ جملہ بولا گیا تھا تسع عشر (انیس) راوی نے صرف تسع (نو)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader