عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
کا لفظ سنا اور اس طرح اس داستان نے جنم لیا کہ بعض اوقات کان سننے میں غلطی کرتے ہیں۔ (حبیب الرحمن صدیقی کاندھلوی، عمر عائشہ، مطبوعہ کراچی، اکتوبر 1994ء، صفحہ 9-8)۔ یہ قیاس بھی درست نہیں۔ عائشہ صدیقہ کا مذکورہ اصول وہاں قابل انطباق ہوگا جہاں روایت کرنے والا اور روایت کی تردید کرنے والا دونوں یکساں طور پر سامع کی حیثیت رکھتے ہوں ۔ ایک سامع دوسرے سامع کے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ اس نے سننے میں غلطی کی، میرے سننے کے مطابق، اصل بات یہ تھی۔ مگر ایک غیر سامع جو بات کو سننے میں شریک نہ ہو وہ مذکورہ قیاس کی بنیاد پر تردید کا حق نہیں رکھتا۔ اس قسم کا استدلال سراسر غیر معقول ہے۔ اگر اس تووسیعی قیاس کو ایک درست اصول مان لیا جائے تو کوئی شخص ایسے قیاسات پیش کر سکتا ہے جو پورے دین کا حلیہ بگاڑ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں بحث کا نقطۂ آغاز ہی نہیں ہے کہ ایک کم عمر لڑکی کی شادی زیادہ عمر کے انسان سے کیوں ہوئی ۔ بلکہ اس معاملہ میں بحث کا صحیح نقطہ آغاز یہ ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ عائشہ صدیقہ تاریخ کی ایک استثنائی شخصیت کیوں بن گئیں ۔ اس معاملہ میں پہلے واقعہ کو دوسرے واقعہ کے تابع کر کے دیکھا جائے گا، نہ کہ اس کے برعکس۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پوری مسلم تاریخ میں عائشہ صدیقہ اپنے رول کے اعتبار سے ایک منفرد اور ممتاز شخصیت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ دین اسلام کی روح کو انھوں نے جتنی گہرائی کے ساتھ سمجھا اتنی گہرائی کے ساتھ کسی بھی دوسرے مرد یا عورت نے نہیں سمجھا۔ دین کے نازک پہلوؤں کی تشریح میں وہ جس یقین کے ساتھ ہوتی ہیں اس یقین کے ساتھ کوئی بھی دوسرا بول نہ سکا۔ انھوں نے دین کی حکمتوں کی جس طرح وضاحت کی ہے اُس طرح وضاحت کرنے والا کوئی بھی دوسرا شخص نظر نہیں آتا، نہ دور صحابہ میں اور نہ دور صحابہ کے بعد۔ اسی سوال کے جواب میں اصل مسئلہ کا جواب چھپا ہوا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader