Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ دین میں سب سے بڑی چیز معرفت ہے۔ یہ معرفت پیغمبر کو کامل درجہ میں حاصل ہوتی ہے۔ پیغمبر کو یہ معرفت جبرئیل کے واسطہ سے براہ راست خدا کی طرف سے ملتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پیغمبر کے بعد یہ معرفت کامل کس طرح کسی کو ملے۔ اسی معرفت کامل کا مہبط بننے کے لیے عائشہ صدیقہ کو چنا گیا۔ عملی طور پر اس کی صرف ایک صورت تھی، اور وہ یہ کہ عائشہ کو ابتدائی عمر ہی میں پیغمبر کی صحبت کا موقع دے دیا جائے۔ اس معرفت کامل کے لیے صحبت کامل درکار تھی۔ اور کسی انسان کے ساتھ صحبت کامل کا موقع صرف اس کی بیوی کو مل سکتا ہے، کسی اور کو نہیں۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بچہ اپنی ابتدائی عمر میں بے حد متجس (inquisitive) ہوتا ہے۔ وہ اپنے باہر کی باتوں کو جاننے کے لیے بے حد شائق (eager to learn) ہوتا ہے ۔ مزید یہ کہ بچہ اپنی ابتدائی عمر میں بہت تیز ذہن (sharp mind) ہوتا ہے۔ وہ نئی نئی چیزوں کو فی الفور پکڑتا ہے۔ مطالعہ سے بھی ثابت ہوا ہے کہ ابتدائی عمر میں ہر مرد اور ہر عورت کا حافظہ بہت قوی ہوتا ہے۔ ابتدائی عمر میں جو باتیں انسان کے علم میں آجائیں وہ پھر کبھی اس کو نہیں بھولتیں ۔ ابتدائی عمر سے بچوں کی اسکولنگ شروع کرنے کا نظریہ اسی خاص اصول پر قائم ہے۔ عائشہ صدیقہ نہایت ذہین خاتون تھیں ۔ اُن کو بے حد اخٰذا طبیعت ملی تھی۔ اس لیے خدا کی منشا ہوئی کہ ان کو کم عمری میں پیغمبر کی مستقل صحبت میں دے دیا جائے۔ اور اسی مستقل صحبت کی عملی صورت یہ تھی کہ وہ آپ کی زوجہ کی حیثیت سے آپ کی شریک زندگی بن جائیں۔ اسی خاص منصوبہ کے تحت عائشہ صدیقہ کو کم عمری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں دے دیا گیا۔ یہ نکاح بظاہر ایک غیر روایتی نکاح تھا۔ وہ مروجہ طریقہ کے خلاف تھا۔ اس بنا پر عین ممکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page