زوجین کا اصول
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
زوجین کا اصول اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو جوڑے (pairs) کی صورت میں بنایا ہے۔ یعنی ہر چیز کا ایک بالمقابل جوڑا۔ ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنے فطری منشا کی تکمیل کرتی ہے۔ اس اصول کو قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (51:49) ۔ یعنی، اور ہم نے ہر چیز کو جوڑ جوڑ بنایا ہے تا کہ تم دھیان کرو۔ دنیا کی تمام چیزیں جوڑے جوڑے کی شکل میں پیدا کی گئی ہیں۔ مادہ میں مثبت اور منفی ذرے، نباتات میں نر اور مادہ، حیوانات میں مذکر اور مؤنث، انسان میں عورت اور مرد۔ زوجین کا یہی اصول پوری کائنات میں ہے اور یہی اصول انسانوں کے اندر بھی عورت اور مرد کی صورت میں قائم کیا گیا ہے۔ زوجین کے اس فطری اصول کا یہ نتیجہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے سے مل کر اپنا وہ فریضہ ادا کرتے ہیں جو فطرت کے نظام کے تحت ان سے مطلوب ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکملہ (complement) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مکمل وجود بنتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل وجود بن جاتے ہیں۔ جدید تہذیب نے عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات (gender equality) کا تصور پیش کیا ہے۔ یعنی عورت اور مرد دونوں بالکل یکساں طور پر ایک دوسرے کی مانند ہیں۔ جو عورت ہے وہی مرد ہے، اور جو مرد ہے وہی عورت ہے۔ دونوں کے درمیان صنفی اعتبار سے کسی قسم کا کوئی فرق موجود نہیں۔ یہ صنفی مساوات بظاہر ایک خوبصورت تصور معلوم ہوتا ہے۔ مگر وہ واضح طور پر فطرت کے نقشہ کے خلاف ہے۔ اور جو چیز فطرت کے نقشہ کے خلاف ہو وہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader