Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

زوجین کا اصول

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

جیسا کہ اوپر کے قرآنی حوالہ سے معلوم ہوتا ہے، خالق نے اس دنیا کی ہر چیز کو جوڑے جوڑے (pairs) کی صورت میں پیدا کیا ہے۔ جوڑوں کی یہ تقسیم دونوں کے درمیان مساواتی تقسیم کو نہیں بتاتی بلکہ یہ تکمیلی تقسیم کو بتاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ عورت اور مرد کا باہمی معاملہ صنفی برابری (gender equality) کا نہیں ہے۔ بلکہ زیادہ صحیح طور پر یہ معاملہ صنفی تکملہ (gender complementarity) کا ہے۔ یعنی عورت اور مرد دونوں ایک کامل وجود کا نصف ہیں۔ وہ ایک واحد انسانی شخصیت ہیں جس کا نصف حصہ عورت ہے اور اس کا بقیہ نصف حصہ مرد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت اور مرد کے جوڑے کا معاملہ بھی وہی ہے جو دوسری چیزوں جوڑے کا ہے۔ مثلاً مادی چیزوں کے ابتدائی یونٹ کو ایٹم کہا جاتا ہے۔ ہر ایٹم بیک وقت دو مختلف پارٹیکل ہوتے ہیں، ایک مخفی پارٹیکل (negative particle) اور دوسرا مثبت پارٹیکل (positive particle)۔ یہ دونوں زوجین کی حیثیت سے ہر مادی چیز کا حصہ ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان دونوں اجزاء کے درمیان مذکورہ قسم کی مساویانہ برابری (equality) ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ جو منفی پارٹیکل ہے وہی مثبت پارٹیکل بھی ہے۔ اور جو مثبت پارٹیکل ہے وہی منفی پارٹیکل بھی ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی کمی کی تکمیل کرتے ہیں، جو ایک میں نہیں ہے وہ دوسرے میں ہے، اور جو دوسرے نہیں ہے وہ پہلے ہے۔ یہی معاملہ عورت اور مرد کا بھی ہے۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے مساویانہ فریق کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ دونوں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں کو مل کر مشترک عمل کے ذریعہ اپنا فریضہ حیات ادا کرنا ہے۔ عورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page