Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

مزید یہ کہ پیغمبر کی مسلسل صحبت سے ان کو اپنے تصورات دین کی صداقت پر غیر معمولی یقین حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نازک دینی مسائل میں جس قطعیت کے ساتھ بولتی رہیں اس طرح بولنے کی جرات کوئی دوسرا نہ پہلے کر سکا اور نہ اب کر سکتا ہے۔ مثلاً ایسا ہوتا ہے کہ لوگ عقیدت مندی کے تحت اس کی رائے بنا لیتے ہیں جو حقیقتِ واقعہ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ پھر جب ایسی باتیں پھیل جائیں تو عام آدمی کو اس کی جرات نہیں ہوتی کہ وہ اس کی تردید کرے ۔ ایسے موقع پر غیر معمولی بصیرت درکار ہوتی ہے۔ غیر معمولی بصیرت کا حامل انسان ہی ایسے موقع پر کوئی قطعی بات کہنے کی جرات کر سکتا ہے۔ عائشہ صدیقہ کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل صحبت سے یہی بصیرت ملی تھی۔ جس کی بنا پر وہ کامل یقین کے ساتھ کام کر سکتی تھیں۔ مثلاً وفات رسول کے بعد دورِ تابعین میں یہ کہا جانے لگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ عائشہ صدیقہ نے اس کو سنا تو وہ غضبناک ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ كَذَبَ۔ یعنی، جو تم سے یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کو دیکھا وہ جھوٹ کہتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4855)۔ اسی طرح وفات رسول کے بعد جو زمانہ آیا اس زمانہ میں ختم قرآن کا طریقہ جاری ہو گیا۔ لوگ قرآن میں تدبّر کے بجائے اس کو اہمیت دینے لگے کہ لفظی تلاوت کے ذریعہ بار بار قرآن کو ختم کیا جاتا ہے۔ اس ختم پر بڑے بڑے ثواب بتائے جانے لگے۔ یہ بات عائشہ صدیقہ کو معلوم ہوئی ۔ اُن کو بتایا گیا کہ فلاں لوگ ایک دن کے اندر اتنی بار قرآن کر لیتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ نے اس پر اپنی پسندیگی کا اظہار نہیں کیا بلکہ یہ کہا کہ: أُولَئِكَ قَرَءُوا، وَلَمْ يَقْرَءُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 24609)۔ یعنی، اُنھوں نے پڑھا، مگر اُنھوں نے نہیں پڑھا۔ زوجہ رسول ہونے کی وجہ سے لوگ اس طرح کی نازک چیزوں میں عائشہ صدیقہ کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page