Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

بات پر یقین کر سکتے ہیں۔ کوئی دوسرا شخص ایسا بیان دے تو لوگوں کے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک روایت ہے جس میں یوسف بن ماہک کہتے ہیں کہ میں ام المومنین عائشہ کے پاس تھا۔ اتنے میں ان کے پاس ایک عراقی شخص آیا۔ اس نے کہا کہ کون سا کفن بہتر ہے۔ عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ تمہارا برا ہو، اس میں تمہارا کیا نقصان ہے۔ پھر اس نے کہا کہ اے ام المومنین، مجھ کو اپنا مصحف (قرآن) دکھائیے۔ انھوں نے کہا کہ کس لیے۔ اس نے کہا تا کہ میں اس کے مطابق ایک قرآن تیار کروں، کیوں کہ وہ مختلف ترتیب سے پڑھا جا رہا ہے۔ عائشہ نے کہا کہ تمہارا اس میں کیا نقصان ہے، جس طرح تم پہلے پڑھ رہے تھے، وہی پڑھو: وَأَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهِكَ، قَالَ: إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، إِذْ جَاءَهَا عِرَاقِيٌّ، فَقَالَ: أَيُّ الكَفَنِ خَيْرٌ؟ قَالَتْ: وَيْحَكَ، وَمَا يَضُرُّكَ؟ قَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَرِينِي مُصْحَفَكَ؟ قَالَتْ: لِمَ؟ قَالَ: لَعَلِّي أُؤَلِّفُ القُرْآنَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يُقْرَأُ غَيْرَ مُؤَلَّفٍ، قَالَتْ: وَمَا يَضُرُّكَ أَيَّهُ قَرَأْتَ قَبْلُ؟ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4993)۔ عائشہ صدیقہ نے اس گفتگو میں جس یقین اور وضاحت کے ساتھ روح اسلام کی نمائندگی کی ہے وہ بے حد اہم ہے۔ اس یقین اور وضاحت کے ساتھ بولنا ان کے لیے صرف اس بنا پر ممکن ہو سکا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قریبی صحبت سے اسلام کی روح کو بھر پور طور پر سمجھ چکی تھیں۔ وہ کسی ادنی شبہ کے بغیر جانتی تھیں کہ اس معاملہ میں اسلام کا تقاضا کیا ہے۔ عائشہ صدیقہ کی فہم و بصیرت سے متعلق اس طرح کی کچھ اور مثالیں اس کتاب کے دوسرے ابواب میں ملیں گی۔ ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عائشہ کی نکاح کے بارے میں عمر کا مسئلہ صرف ایک اضافی مسئلہ ہے۔ اس معاملہ میں اصل فیصلہ کن بات یہ ہے کہ تعلیم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page