Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

تربیت کی جس مصلحت کے تحت یہ نکاح ہوا اس کا کوئی بھی بدل سرے سے موجود نہ تھا۔ نکاح کی حکمت جیسا کہ معلوم ہے، عائشہ صدیقہ کا نکاح جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا اس وقت ان کی عمر دس سال سے کم تھی۔ نکاح کے بعد وہ پورے مدنی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں۔ یہ مدنی دور جو دس سال پر مشتمل ہے، اسلام کی ابتدائی تاریخ کا سب سے زیادہ پر از واقعات (eventful) دور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پورے مدنی دور میں وہ مسلسل طور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں، حتی کہ وہ سفر میں بھی آپ کے ساتھ ہوتی تھیں۔ اس طرح یہ دس سالہ زمانہ عائشہ صدیقہ کے لیے گویا ایک زندہ مدرسہ کے ساتھ وابستگی کا زمانہ ہے۔ کم عمری میں عائشہ صدیقہ کا نکاح جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا اس کا اصل مقصد یہی تھا۔ عائشہ صدیقہ اس وقت اپنی عمر کے اس حصہ میں تھیں جس کو تشکیلی دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقریباً دس سال کی عمر تک ہر مرد اور عورت کا ذہن بڑی حد تک بن جاتا ہے۔ اس کی کنڈیشنگ اتنی زیادہ ہو چکی ہوتی ہے کہ بعد کے مرحلہ میں اس کو توڑنا بے حد مشکل ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ کے والد ابو بکر صدیق نے اس راز کو سمجھا۔ انہوں نے سوچے سمجھے نقشہ کے مطابق، اپنی ذہین صاحبزادی کا نکاح کم عمری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ یہ کام خلیفۂ اوّل ابو بکر صدیق کی کامل رضامندی کے تحت پیش آیا۔ اس میں بیک وقت گہرا اخلاص بھی شامل تھا اور اسی کے ساتھ اعلیٰ ہوش مندی بھی۔ اس نکاح یا دوسرے لفظوں میں تعلیمی منصوبہ بندی کا وہ نتیجہ سامنے آیا جو پوری انسانی تاریخ میں غالباً واحد مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس منصوبہ بندی کے نتیجہ میں عائشہ صدیقہ جیسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page