عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک قابل شخصیت تیار ہوئی جس کو اپنی عمر کے ریسیپیٹو (receptive) مرحلہ میں پیغمبر کامل کی صحبت میں اپنے آپ کو تیار کرنے کا موقع ملا۔ اس طرح وہ علم نبوت کی مکمل وارث بن گئیں اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تقریباً پچاس سال تک لوگوں کے درمیان علم نبوت کی اشاعت کرتی رہیں۔ وہ گویا پرنٹنگ پریس اور ٹیپ ریکارڈر کے دور سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زندہ ٹیپ ریکارڈر بن گئیں ۔ نبوت کی علمی فیض رسانی کا یہ سلسلہ عائشہ صدیقہ کے ذریعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی لمبی مدت تک جاری رہا۔ ایسا صرف اس لیے ممکن ہوا کہ اُن کا نکاح کم عمری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگیا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا کہ جو عمر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی تقریباً وہی عمر عائشہ صدیقہ کی بھی ہوتی تو دونوں کی وفات کسی قدر فرق کے ساتھ ایک ہی وقت میں ہو جاتی۔ جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان بند ہوتی تو عائشہ صدیقہ کی زبان بھی ساتھ ہی بند ہوجاتی اور علم نبوت کی فیض رسانی کا سلسلہ بھی اچانک ٹوٹ جاتا۔ یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ پیغمبر سے اکتساب علم کا یہ معاملہ کسی مرد کے ساتھ نہیں ہوسکتا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک خاتون درکار تھیں جو زوجہ کی حیثیت سے مستقل طور پر آپ کے ساتھ رہیں۔ مسلسل صحبت کا تعلق صرف زوجہ کے ساتھ ہوسکتا تھا، نہ کسی عام مرد کے ساتھ۔ ان مصلحتوں کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو عائشہ صدیقہ کا مذکورہ نکاح ایک ایسا دور رس منصوبہ تھا جس کا فائدہ قیامت تک کے لیے پوری انسانیت کو حاصل ہوا۔ اس معاملہ کے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے اور اس پر غیر جانبدارانہ انداز سے رائے قائم کی جائے تو یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ جو ہوا وہی ہو سکتا تھا۔ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے کوئی دوسرا متبادل سرے سے موجود ہی نہ تھا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader