Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

دین اسلام کا اصل ماخذ قرآن و حدیث ہے۔ قرآن و حدیث کو اسلام کا متن (text) کہہ سکتے ہیں۔ یہ متن گویا دینِ اسلام کا لفظی بیان (literal statement) ہے۔ جو آدمی یہ جاننا چاہے کہ اسلام کیا ہے وہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے اس کو معلوم کر سکتا ہے۔ تاہم ایک اور چیز ہے جس کی دین میں بے حد اہمیت ہے اور وہ صحبت ہے۔ صحبت کا مطلب مجلس میں خاموش بیٹھنا نہیں ہے، بلکہ اس میں فکری تبادلہ (intellectual exchange) لازمی طور پر شامل ہے۔ حقیقی معنوں میں صحبت یافتہ وہ ہے جو مجلس میں اس طرح شرکت کرے کہ وہ صاحب مجلس سے باقاعدہ استفادہ کر رہا ہو، وہ سوال و جواب کی صورت میں اپنے علم کو بڑھا رہا ہو۔ وہ غیر واضح امور کو مزید گفتگو کے ذریعہ واضح بنا رہا ہو اور اسی کے ساتھ وہ صاحب مجلس کے تجربہ، اس کی روحانیت، اور اس کی خدا رسیگی سے شخصی فیض حاصل کر رہا ہو۔ صحابہ کرام اسی صحبت رسول کی عملی مثالیں ہیں مگر عائشہ کی صورت میں ایک استثنائی مثال قائم کی گئی جو صحبت کی کامل مثال تھی۔ جو صحبت کے فوائد کا کامل نمونہ تھی۔ مزید یہ کہ یہ نمونہ ایک ایسا نمونہ بن گیا جو پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد بھی لمبی مدت تک لوگوں کو صحبت کی اہمیت سے آگاہ کرتا رہے۔ عائشہ صدیقہ گویا صحبت کی زندہ تفسیر ہیں۔ ان کی زندگی میں صحبت کے اصول نے گویا ایک ادارہ (institution) کی صورت اختیار کر لی۔ اب اس ادارہ کو امت کے اندر مستقل طور پر زندہ رکھنا ہے۔ ہر نسل کے سینئر افراد کو چاہیے کہ وہ اگلی نسل کے مردوں اور عورتوں کو صحبت کا یہ فیض پہنچاتے رہیں۔ تا کہ دین اسلام نہ صرف متن (text) کے اعتبار سے محفوظ رہے بلکہ صحبت کے ادارہ کی صورت میں اس کا ذہنی اور روحانی فیض بھی ہمیشہ جاری رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page