عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے ہاجرہ نے کمر پٹا باندھا تا کہ سارہ کو اُن کے بارے میں خبر نہ ہو سکے۔ پھر ابراہیم ، ہاجرہ اور اُن کے بچے اسماعیل کو مکہ میں لے آئے۔ اِس وقت ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم نے اُن دونوں کو مسجد کے اوپرى حِصّہ میں ایک بڑے درخت کے نیچے بٹھا دیا جہاں زمزم ہے ۔ اِس وقت مکہ میں ایک شخص بھی موجود نہ تھا اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ ابراہیم نے کھجور کا ایک تھیلا اور پانی کی ایک مشک وہاں رکھ دیا اور خود وہاں سے روانہ ہوئے ۔ ہاجرہ اُن کے پیچھے نکلیں اور کہا کہ اے ابراہیم ، ہم کو اِس وادی میں چھوڑ کر آپ کہاں جا رہے ہیں جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اَور چیز ۔ ہاجرہ نے ابراہیم سے یہ بات کئی بار کہی اور ابراہیم نے ہاجرہ کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ ہاجرہ نے ابراہیم سے کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اِسی کا حکم دیا ہے ۔ ابراہیم نے کہا کہ ہاں ۔ ہاجرہ نے کہا پھر تو اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔ ہاجرہ لوٹ آئیں ۔ ابراہیم جانے لگے ۔ یہاں تک کہ جب وہ مقامِ ثنیہ پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو انہوں نے اپنا رخ اِدھر کیا جہاں اب کعبہ ہے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی کہ: اے ہمارے رب ، میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کچھ نہیں اُگتا۔ یہاں تک کہ آپ لفظ یشکرون تک پہنچے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364)۔ ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتیں اور مشک میں سے پانی پیتیں۔ یہاں تک کہ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو وہ پیاسی ہوئیں اور اُن کے بیٹے کو بھی پیاس لگی۔ انہوں نے بیٹے کی طرف دیکھا تو وہ پیاس سے بے چین تھا۔ بیٹے کی اِس حالت کو دیکھ کر مجبور ہو کر وہ نکلیں۔ انہوں نے سب سے قریب پہاڑ صفا کو پایا ۔ چنانچہ وہ پہاڑ پر چڑھیں اور وادی کی طرف دیکھنے لگیں کہ کوئی شخص نظر آجائے ۔ وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں ۔ وہ صفا سے اتریں ۔ یہاں تک کہ جب وہ وادی تک پہنچیں تو اپنے کُرْتہ کا ایک حصہ اُٹھایا پھر وہ تھکاوٹ سے چور انسان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader