عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح دوڑیں۔ وادی کو پار کر کے وہ مروہ پہاڑ پر آئیں۔ اس پر کھڑے ہو کر انہوں نے دیکھا تو کوئی انسان نظر نہ آیا۔ اس طرح انہوں نے صفا و مروہ کے درمیان سات چکر کیے۔ عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ پھر وہ مروہ پر چڑھیں۔ انہوں نے ایک آواز سنی۔ وہ اپنے آپ سے کہنے لگیں کہ چپ رہ۔ پھر سننا چاہا تو وہی آواز سنی۔ انہوں نے کہا کہ تو نے اپنی آواز مجھ کو سنا دی تو اس وقت ہماری مدد کر سکتا ہے۔ دیکھا تو مقام زمزم کے پاس ایک فرشتہ ہے۔ فرشتہ نے اپنی ایڑی یا پنکھ زمین میں ماری، پانی نکل آیا۔ ہاجرہ اُس کو حوض کی طرح بنانے لگیں اور ہاتھ سے اس کے گرد مینڈ بنانے لگیں۔ وہ پانی چُلّو سے لے کر اپنی مشک میں بھر تیں۔ وہ جس قدر پانی بھر تیں چشمہ اتنا ہی زیادہ اُبلتا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ہاجرہ پر رحم کرے، اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں یا آپ نے یہ فرمایا کہ اگر وہ چُلّو بھر کر پانی نہ لیتیں تو زمزم ایک بہتا چشمہ ہوتا۔ ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بیٹے کو پلایا۔ فرشتہ نے ہاجرہ سے کہا کہ تم ضائع ہونے کا اندیشہ نہ کرو۔ یہ اللہ کا گھر ہے۔ یہ بچہ اور اس کے باپ دونوں اس گھر کو بنائیں گے اور اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ اس وقت گھر (کعبہ) ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا تھا۔ سیلاب آتا اور وہ اس کے دائیں بائیں جانب سے نکل جاتا۔ کچھ دنوں تک ہاجرہ نے اسی طرح زندگی گزاری۔ یہاں تک کہ جرہم قبیلہ کے کچھ لوگ یا جرہم کے گھر والے کدا کے راستہ سے آرہے تھے۔ وہ مکہ کے نشیبی حصہ میں اُترے۔ انہوں نے وہاں ایک پرندہ کو دیکھا جو گھوم رہا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ پرندہ تو پانی پر گھومتا ہے۔ ہم اس وادی میں رہے ہیں اور یہاں پانی نہ تھا۔ انہوں نے ایک یا دو آدمی کو خبر لینے کے لیے بھیجا۔ انہوں نے پانی دیکھا۔ وہ واپس لوٹ کر گئے اور لوگوں کو پانی کی خبر دی۔ وہ لوگ بھی آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ پانی کے پاس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader