عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
تھیں ۔ انہوں نے ہاجرہ سے کہا کہ کیا تم ہم کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیتی ہو۔ ہاجرہ نے کہا کہ ہاں لیکن پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ خود چاہتی تھیں کہ یہاں انسان آباد ہوں ۔ اُن لوگوں نے یہاں پر قیام کیا اور اپنے گھر والوں کو بھی بلا بھیجا، وہ بھی یہیں ٹھہرے۔ جب مکہ میں کئی گھر بن گئے اور اسماعیل جوان ہو گئے اور اسماعیل نے جرہم والوں سے عربی زبان سیکھ لی۔ جرہم کے لوگ ان سے محبت کرنے لگے تو انہوں نے اپنی ایک لڑکی سے ان کی شادی کردی ۔ ہاجرہ کا انتقال ہو گیا ۔ جب اسماعیل کی شادی ہو چکی تو ابراہیم اپنی اولاد کو دیکھنے آئے۔ انہوں نے وہاں اسماعیل کو نہیں پایا۔ چنانچہ اُن کی بیوی سے ان کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں ۔ ابراہیم نے اس سے اُن کے گذر بسر اور حالت کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا کہ ہم تکلیف میں ہیں ۔ ہم بہت زیادہ تنگی میں ہیں ۔ اس نے ابراہیم سے شکایت کی۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم ان کو میرا سلام کہنا اور ان سے یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دیں۔ جب اسماعیل آئے۔ انہوں نے کچھ محسوس کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ ایک بوڑھا شخص اس صورت کا آیا تھا۔ انہوں نے آپ کے بارے میں پوچھا، میں نے ان کو بتایا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری گزر کیسے ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ بڑی تکلیف اور تنگی سے ۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا انہوں نے تم سے اور کچھ کہا ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے مجھ سے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دو ۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ میرے باپ تھے۔ انہوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تم کو چھوڑ دوں ۔ تم اپنے گھر والوں میں چلی جاؤ۔ اسماعیل نے اُس کو طلاق دے دی۔ اور جرہم کی ایک دوسری عورت سے انہوں نے شادی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader