زوجین کا اصول
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بغیر مردادھورا ہے، اور اسی طرح مرد کے بغیر عورت ادھوری ہے۔ جدید تہذیب کے تصور مساوات کے مطابق، جو انسانی سماج بنایا جائے وہ یقیناً ایک مصنوعی سماج ہوگا۔ نظام فطرت سے عدم مطابقت (incompatibility) کی بنا پر وہ کبھی کامیاب انسانی سماج نہ بن سکے گا۔ چوں کہ فطرت کے نظام کو بدلنا ممکن نہیں ہے اس لیے اس معاملہ میں کوئی بھی تدبیر فطرت سے انحراف کی تلافی نہیں بن سکتی۔ جیسا کہ معلوم ہے، پوری مادی دنیا منفی پارٹیکل اور مثبت پارٹیکل کے باہم ملنے سے بنی ہے۔ یہ اتحاد پوری مادی دنیا کو مکمل طور پر ہم آہنگ کیے ہوئے ہے۔ اگر ایسا ہو کہ یہ دونوں پارٹیکل اپنی خاصیت کے اعتبار سے یکساں ہو جائیں یعنی جو وصف (property) منفی پارٹیکل میں ہے عین وہی وصف مثبت پارٹیکل میں بھی ہو جائے۔ اور جو وصف مثبت پارٹیکل میں ہے وہی وصف منفی پارٹیکل میں بھی ہو جائے تو پوری مادی کائنات اچانک منتشر (disintegrate) ہو جائے گی۔ یہی معاملہ عورت اور مرد کا ہے۔ عورت اور مرد کا اجتماع اگر باہمی تکمیل کے نظریہ کے تحت ہو، جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے، تو انسانی سماج ایک متحد اور ہم آہنگ سماج بنے گا۔ وہ باہمی تضادات سے خالی ہوگا۔ اس کے برعکس اگر عورت اور مرد کا اجتماع، تہذیب جدید کے اصول کے مطابق، دونوں صنفوں کی یکساں برابری کے اُصول پر قائم کیا جائے تو پورا انسانی سماج انتشار کا شکار ہو جائے گا۔ سماج میں ہر طرف ٹوٹے ہوئے خاندان (broken homes) کا منظر دکھائی دینے لگے گا، جیسا کہ آج مغربی سماج میں دکھائی دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم اُن سے سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader