Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 140

By Maulana Wahiduddin Khan

کر لی۔ ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جس قدر اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد ابراہیم اسماعیل کے یہاں آئے تو پھر اُن کو نہیں پایا۔ وہ اسماعیل کی بیوی کے پاس آئے اوراُس سے اسماعیل کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کہ تم لوگ کیسے ہو۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ خیریت سے ہیں اور کشادگی کی حالت میں ہیں۔ اس نے اللہ عزوجل کی تعریف کی۔ ابراہیم نے کہا کہ تمہارا کھانا کیا ہے۔ اس نے کہا کہ گوشت۔ ابراہیم نے کہا کہ تم کیا پیتے ہو۔ اس نے کہا کہ پانی۔ ابراہیم نے دعا کی کہ اے اللہ تو ان کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت مکہ میں اناج نہ تھا۔ اور اگر وہاں اناج ہوتا تو ابراہیم اس میں بھی برکت کی دعا کرتے۔ مکہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے لوگ اگر گوشت اور پانی پر گزر کریں تو وہ ان کو موافق نہ آئے۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم ان کو میرا سلام کہنا اور میری طرف سے ان کو یہ حکم دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں ۔ پس جب اسماعیل آئے تو انہوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی شخص آیا تھا۔ اس نے کہا کہ ہاں، ہمارے پاس ایک اچھی صورت کے بزرگ آئے تھے اور اس نے آنے والے کی تعریف کی۔ انہوں نے مجھ سے آپ کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں بتایا۔ انہوں نے مجھ سے دوبارہ ہمارے گزر بسر کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہم خیریت سے ہیں۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا انہوں نے تم سے کچھ اور بھی کہا ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ انہوں نے آپ کو سلام کہا ہے اور آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو باقی رکھیں ۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ میرے باپ تھے اور تم چوکھٹ ہو۔ انہوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنے پاس باقی رکھوں۔ پھر ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد وہ آئے اور اسماعیل زمزم سے قریب ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page