عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
درخت کے نیچے بیٹھے اپنے تیر درست کر رہے تھے۔ جب اسماعیل کو دیکھا تو وہ کھڑے ہو گئے ۔ پس ہم نے وہی کیا جو ایک باپ اپنے بیٹے سے اور ایک بیٹا اپنے باپ سے کرتا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ اے اسماعیل، اللہ نے مجھ کو ایک حکم دیا ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ پھر جو آپ کے رب نے حکم دیا ہے اسے کر ڈالیے۔ ابراہیم نے کہا کہ کیا تم میری مدد کرو گے۔ اسماعیل نے کہا کہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بناؤں اور ابراہیم نے اس کے گرد ایک بلند ٹیلہ کی طرف اشارہ کیا۔ اس وقت ان دونوں نے گھر کی بنیاد اٹھائی۔ اسماعیل پتھر لاتے تھے اور ابراہیم تعمیر کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب دیوار اونچی ہو گئی تو اسماعیل یہ پتھر (حجر اسود) لائے اور اس کو وہاں رکھ دیا۔ ابراہیم اس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل اُن کو پتھر دیتے تھے ۔ اور وہ دونوں کہتے تھے کہ اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر، بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے۔ پس وہ دونوں تعمیر کرتے اور اس گھر کے ارد گرد یہ کہتے ہوئے چکر لگاتے کہ اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر ۔ بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364)۔ ہاجرہ کے شوہر حضرت ابراہیم بن آزر تقریباً ساڑھے چار ہزار سال پہلے عراق میں پیدا ہوئے اور ایک سو چھتر سال کی عمر پا کر ان کی وفات ہوئی۔ انہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں کو توحید کی دعوت دی مگر شرک اور بت پرستی کا غلبہ ان لوگوں کے ذہن پر اتنا زیادہ ہو گیا تھا کہ وہ توحید کے پیغام کو قبول نہ کر سکے۔ حضرت ابراہیم نے ایک سے زیادہ جنریشن تک لوگوں کو توحید کا پیغام دیا۔ مگر اس زمانہ میں شرک ایک تہذیب کی صورت اختیار کر کے لوگوں کی زندگی میں اس طرح شامل ہو چکا تھا کہ وہ اس سے الگ ہو کر سوچ نہیں سکتے تھے۔ پیدا ہوتے ہی ہر آدمی کو شرک کا سبق ملنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ ماحول کے اثر سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader