Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

اُس کا ذہن پوری طرح شرک میں کنڈیشنڈ ہو جاتا تھا۔ اُس وقت اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم نے ایک نیا منصوبہ بنایا۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ متمدّن شہروں سے باہر غیر آباد صحرا میں ایک نسل تیار کی جائے۔ اِس مقصد کے لیے حضرت ابراہیم نے اپنی اہلیہ ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کو اِس مقام پر لا کر چھوڑ دیا جہاں اب مکہ آباد ہے۔ یہ جگہ مشرکانہ تمدن سے مکمل طور پر خالی تھی۔ یہ فطرت کی ایک دنیا تھی جہاں خدائی تخلیق کے مناظر کے سوا اور کوئی چیز موجود نہ تھی۔ فطرت کے اِس سادہ ماحول میں توالدوتناسل کے ذریعہ ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی۔ اِس نسل کے بننے میں دو ہزار سال سے زیادہ کی مدت لگ گئی۔ پھر وہ وقت آیا جب کہ اِس نسل کے اندر پیغمبر آخرالزماں کا ظہور ہوا۔ اِس نسل کو تاریخ میں بنو اسماعیل کہا جاتا ہے ۔ یہ بنو اسماعیل گویا بالقوہ مسلمان (potentially Muslims) تھے ۔ چنانچہ انبیاء کی طویل تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پیغمبر آخرالزماں کو بہت کم مدت میں طاقتور ساتھیوں کی ایک ٹیم مل گئی۔ اِس ٹیم نے جس کو اصحابِ پیغمبر کہا جاتا ہے، اپنی مجاہدانہ قربانیوں کے ذریعہ توحید کو ایک نظریاتی تحریک سے اٹھا کر عملی انقلاب تک پہنچا دیا۔ ایسے انقلاب کو واقعہ بنانے کے لیے ایک جاندار ٹیم درکار تھی، اور یہ جاندار ٹیم بلا شبہ ہاجرہ کی قربانی کے ذریعہ بن کر تیار ہوئی۔ جیسا کہ البخاری کی مذکورہ روایت سے واضح ہوتا ہے، اِس موحدانہ انقلاب میں ہاجرہ کا رول بے حد بنیادی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہاجرہ کی بے مثال قربانی کے ذریعے یہ ممکن ہوا کہ تاریخ کا وہ عظیم واقعہ ظہور میں آئے جس کو اسلامی تاریخ کہا جاتا ہے۔ بلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مشہور انگریزی مثل اگر سب سے زیادہ کسی خاتون پر صادق آتی ہے تو وہ ہاجرہ ہیں: There is a woman at the beginning of all great things. حج کی سالانہ عبادت کے لیے مکہ جانے والے تمام حاجی صفا اور مروہ کے درمیان سات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page