عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
بارسی کرتے ہیں۔ یہ دراصل ہاجرہ کی سعی کی تقلید ہے۔ اللہ کو ہاجرہ کی سعی اتنی پسند آئی کہ اُس نے حکم دے دیا کہ تمام دنیا کے مسلمان جوج کی عبادت کے لیے مکہ آئیں وہ ہاجرہ کے نقش قدم کی پیروی کریں۔ آسیہ بنت مزاحم دوسری مثال آسیہ بنت مزاحم کی ہے۔ وہ حضرت موسیٰ کی ہم عصر تھیں۔ وہ غالباً بنی اسرائیل سے تعلق رکھتی تھیں۔ مصر کے بادشاہ فرعون نے ان سے نکاح کر کے ان کو اپنے محل میں رکھا۔ وہ وقت کے پیغمبر حضرت موسیٰ پر ایمان لائیں اور سچے دل سے خدا پرستانہ زندگی اختیار کرلی۔ آسیہ بنت مزاحم کا تذکرہ قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: اور اللہ ایمان والوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی، جب کہ اس نے کہا کہ اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے (66:11)۔ آسیہ بنت مزاحم بادشاہ مصر کی ملکہ تھیں۔ وہ شاہی محل میں رہتی تھیں۔ ہر قسم کا عیش و آرام اُن کو حاصل تھا۔ مگر یہ مادی کامیابی ان کو غافل یا سرکش نہ بنا سکی۔ جب حضرت موسیٰ کی دعوت اُنہیں پہنچی تو اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے فوراً انہوں نے اس کو قبول کر لی اور اپنی زندگی خدا اور پیغمبر کی اطاعت میں گزارنے لگیں۔ فرعون شرک کے مذہب کو اختیار کیے ہوئے تھا جو اس کے لیے مصر کے قدیم مشرکانہ سماج میں اپنی سیاسی حکمرانی قائم کرنے کے لیے بہت مفید تھا۔ حضرت موسیٰ نے جب مصر میں توحید کی دعوت بلند کی تو ان کا دشمن بن گیا اور توحید کی دعوت مٹانے کے درپے ہو گیا۔ فرعون نے آسیہ بنت مزاحم کو دو میں سے ایک کا اختیار (option) دیا۔ یا تو موسیٰ کے دین کو چھوڑ دو، ورنہ تم کو بغاو ت کے جرم میں قتل کر دیا جائے گا۔ موسیٰ کے دین کو چھوڑ نا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader