Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کو چھوڑنے کے ہم معنیٰ تھا، جب کہ فرعون کے حکم کو نہ ماننے سے صرف وقتی طور پر شاہی محل سے محرومی ہو رہی تھی۔ آسیہ بنت مزاحم نے سچے طالب حق کی حیثیت سے یہ فیصلہ کیا کہ وہ شاہی محل سے محرومی کو گوارا کر لیں مگر وہ خدا کی جنت سے محرومی کو گوارا نہ کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسیہ بنت مزاحم کو فرعون کے حکم سے قتل کر دیا گیا۔ آخر وقت میں آسیہ بنت مزاحم کی زبان پر جو دعا تھی وہ اتنی بامعنی تھی کہ قرآن نے اس کو ہمیشہ کے لیے ان الفاظ میں شامل وحی کر دیا ہے: رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (66:11)۔ یعنی، اے میرے رب تو میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔ قرآن میں اس دعا کو نقل کرنا گویا خدا کی طرف سے اُس کی قبولیت کا ایک بالواسطہ اعلان ہے۔ آسیہ بنت مزاحم کی زندگی کا یہ جزء، ساری خواتین کے لیے (نیز مردوں کے لیے) اس بات کی خوش خبری ہے کہ خدا پرستانہ زندگی اختیار کرنے کے لیے اگر دنیا کی جنت کھوئی جا رہی ہو تو اس کی پرواہ نہ کرنا۔ کیوں کہ جو عورت یا مرد خالص خدا کے لیے دنیا کی عارضی جنت کو چھوڑے گا اس کے لیے خدا آخرت کی ابدی اور معیاری جنت مقدر کر دے گا۔ اور بلا شبہ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں۔ مریم والدہ مسیح اس سلسلہ میں ایک اور قابل ذکر خاتون مریم ہیں جو حضرت مسیح کی والدہ ہیں۔ قرآن میں مریم کا نام 34 بار آیا ہے، جب کہ کسی اور مسلم خاتون کا نام قرآن میں ایک بار بھی نہیں آیا۔ اس سے مریم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہاں مریم کے بارے میں قرآن کے بیانات کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے: جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب، میں نے نذر کیا تیرے لیے جو میرے پیٹ میں ہے وہ آزاد رکھا جائے گا۔ پس تو مجھ سے قبول کر بے شک تو سننے والا جاننے والا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page