عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ہوئی۔ بچپن ہی سے وہ ہیکل کی خدمت میں دے دی گئیں۔ جب وہ ہیکل میں تھیں تو ان کی روحانی زندگی اور ان کی معرفت کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک کی نظر میں وہ ایک انتہائی مقدس خاتون بن گئیں۔ ان کی پاکیزگی پر شک کرنا بالکل ناممکن ہوگیا۔ ایسی خاتون کو خدا نے مسیح کی ماں بننے کے لیے چُنا، ایک ایسی ماں جس کا کوئی شوہر نہ ہو اور جس کے بچہ کا کوئی والد نہ ہو۔ خدا کے براہِ راست کلمہ کے ذریعہ وہ حاملہ ہوئیں اور مدت کی تکمیل پر ایک کامل اور تندرست بچہ کو جنم دیا۔ مریم جیسی پاک دامن خاتون کے لیے یہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا کہ وہ ایک ایسے بچے کی ماں بنیں جس کا کوئی باپ نہ ہو۔ یہی نزاکت تھی جس کی بنا پر خدا نے اپنا فرشتہ مریم کے پاس بھیجا جو انہیں تسلی دے اور اُنہیں اس موقع پر ذہنی صدمہ سے بچائے۔ اسی کے ساتھ خدا نے اُن کے لیے شہر کے باہر معجزاتی طور پر خوراک اور پانی کا انتظام کیا۔ اس غیر معمولی انتظام کا سبب غالباً وہ مخصوص کردار تھا جو حضرت مسیح کو یہود کے اندر ادا کرنا تھا۔ حضرت مسیح یہود (بنی اسرائیل) کے آخری پیغمبر تھے۔ اس وقت تک خدا کے پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں آتے تھے مگر دو ہزار سال پہلے بنی اسرائیل کا بگڑا پن اپنی آخری حد تک پہنچ گیا تھا۔ اللہ کو مقصود تھا کہ وہ حضرت مسیح کی صورت میں آخری اسرائیلی پیغمبر بھیج کر اسرائیل کی معزولی کا اعلان کرے۔ حضرت مسیح کا باپ کے بغیر پیدا ہونا غالباً اس لیے تھا کہ خدا یہود کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ تمہارا بگاڑ اتنا زیادہ عام ہو چکا ہے کہ تمہارے اندر اب ایک مرد بھی ایسا نہیں جو مقدس پیغمبر کا باپ بننے کے قابل ہو۔ غالباً اسی حقیقت کے اظہار کے لیے حضرت مسیح کو باپ کے بغیر صرف ماں کے بطن سے پیدا کیا گیا۔ یہود اچھی طرح جانتے تھے کہ مریم کی پوری زندگی ہیکل (معبد) میں لوگوں کے سامنے گزری ہے۔ وہ بلاشک وشبہ ایک پاکیزہ خاتون ہیں۔ اس کے باوجود اُن کے اخلاقی بگاڑ کا یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader