عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
نتیجہ تھا کہ مسیح جب باپ کے بغیر مریم کے بطن سے پیدا ہوئے تو انہوں نے مریم پر الزام عائد کرتے ہوئے یہ کہہ دیا: لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا (19:27)۔ یعنی، تم نے بڑا طوفان کر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے مزید یہ اہتمام فرمایا کہ یہود حضرت مسیح کے بارے میں بلا شک و شبہ یہ یقین کر سکیں کہ وہ کلمہ خداوندی سے پیدا ہوئے ہیں اور یہ کہ وہ ایک پیغمبر ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایسا ہوا کہ حضرت مسیح پیدائش کے بعد جب ایک چھوٹے بچے کی صورت میں حضرت مریم کی گود میں تھے اس وقت انہوں نے بالکل صاف الفاظ میں یہود سے کلام کیا اور انہیں بتایا کہ میں براہ راست خدا کے کلمہ سے پیدا ہوا ہوں۔ میں تمہارے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ مجھے تمہارے درمیان خدا کے مقرر کیے ہوئے مشن کو پورا کرنا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ حضرت مسیح کو بے حد غیر معمولی قسم کے معجزے دیے گئے۔ قرآن میں ان معجزات یا نشانیوں کا ذکر اس طرح آیا ہے: اور مسیح ایک رسول ہوں گے بنی اسرائیل کی طرف کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے لیے مٹی سے پرندہ کی مانند صورت بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے واقعی پرندہ بن جاتی ہے۔ اور میں اللہ کے حکم سے مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں۔ اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کرتا ہوں۔ اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور اپنے گھروں میں کیا ذخیرہ کرتے ہو ۔ بے شک اس میں تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو (3:49)۔ مریم کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ انہوں نے پاکیزہ زندگی اختیار کی تو خدا نے اپنی روح سے ان کی مدد کی۔ یہ ایک تاریخی مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ کوئی عورت یا مرد اگر مکمل معنی میں پاکیزگی کا ثبوت دے تو وہ خدا کے خصوصی انعام کا مستحق ہو جاتا ہے۔ یہ انعام مریم کو ایک خاص صورت میں ملا۔ دوسروں کو یہ انعام ان کے اپنے حالات کے لحاظ سے دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader