زوجین کا اصول
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
محبت اور رحمت رکھ دی ۔ بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (30:21)۔ قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے ساتھ خدا کی یہ ایک خاص رحمت ہے کہ اُس نے اُس کے لیے اُسی کے جیسا ایک زوج (جوڑا) بنایا۔ مزید یہ کہ یہ جوڑ امنفی ذرہ اور مثبت ذرہ کی طرح صرف ایک مادی جوڑ نہیں ہے۔ بلکہ انسان کے اندر اس جوڑے کے لیے مودت اور رحمت رکھ دی گئی ہے تا کہ وہ اُس سے سکون حاصل کر سکے۔ یہ بات مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے زوج ہیں ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے سکون اور محبت کا ذریعہ ہیں۔ موجودہ دنیا ہنگاموں سے بھری ہوئی دنیا ہے۔ یہاں ہر وقت مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں عورت اور مرد دونوں کے لیے ایک ذریعہ سکون درکار ہے۔ خالق کا یہ ایک حکیمانہ نظام ہے کہ اُس نے عورت اور مرد دونوں کو ایک دوسرے کے لیے سرچشمہ مودت بنا دیا۔ اس طرح دونوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ زندگی کی جدوجہد میں مشغول ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے سکون حاصل کر سکیں۔ زندگی کی جدوجہد ہر انسان کے لیے ایک شدید معرکہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس معرکہ کے دوران بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان ذہنی دباؤ (stress) کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں ہر مرد اور ہر عورت کے لیے ایک ایسی مددگار چیز درکار ہے جو اُس کے لیے ڈی اسٹریسنگ (de-stressing) کا کام کرے ۔ جو اُس کے ذہنی دباؤ کو رفع کر کے دوبارہ اُم سے معتدل ذہنی حالت پر لے آئے۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے اسی ڈی اسٹریسنگ کا ذریعہ ہیں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے سے برابر طاقت حاصل کرتے رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader