عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
خدیجہ بنت خویلد خدیجہ بنت خویلد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی اہلیہ تھیں۔ وہ مکہ کے قبیلہ قریش کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اُن کی عمر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پندرہ سال زیادہ تھی ۔ خدیجہ کا پہلا نکاح ابو ہالہ بن زرارہ سے ہوا۔ ابو ہالہ مکہ کے ایک کامیاب تاجر تھے۔ وہ نکاح کے جلد ہی بعد مر گئے ۔ اس کے بعد اُن کی تمام دولت خدیجہ کے حصہ میں آئی۔ خدیجہ کا دوسرا نکاح عتیق بن عائذ مخزومی سے ہوا۔ وہ بھی ایک دولت مند تاجر تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد دوسرے شوہر کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد اُن کی دولت خدیجہ کے حصہ میں آئی۔ اس طرح خدیجہ عرب کی ایک دولت مند خاتون بن گئیں۔ خدیجہ نہایت با صلاحیت خاتون تھیں ۔ بیوہ ہونے کے بعد انہوں نے خود بھی تجارت شروع کی ۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ وہ تجارتی مال اونٹوں پر لاد کر شام کے ملک میں بھیجتیں ۔ یہ سامان وہاں فروخت کر دیا جاتا اور پھر وہاں سے دوسرا سامان اونٹوں پر لاد کر آتا جو مکہ کے بازار میں فروخت کیا جاتا۔ یہ تجارت وہ اس طرح کرتی تھیں کہ اپنے غلام میسرہ کے ساتھ ایک اور تجربہ کار شخص کو اونٹوں کے ساتھ بھیج دیتیں ۔ واپسی کے بعد اس شخص کو معاوضہ میں ایک اونٹ دے دیتیں۔ اس زمانہ میں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک امانت دار انسان کی حیثیت سے مکہ میں مشہور ہو چکے تھے۔ ایک روایت کے مطابق ، آپ کے چچا ابو طالب کی درخواست پر خدیجہ نے اپنے تجارتی سفر کا ذمہ دار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا اور انہیں اپنے تجارتی اونٹوں کے ساتھ شام بھیجا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آئے تو خدیجہ کو معلوم ہوا کہ اُن کے تجارتی سفر میں پہلے سے زیادہ نفع حاصل ہوا ہے۔ خدیجہ خوش ہو گئیں۔ انہوں نے معاوضہ کو دُگنا کرتے ہوئے آپ کو دو اونٹ دیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader