Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

ان تجارتی سفروں میں خدیجہ کا غلام میسرہ پیغمبر اسلام کے ساتھ ہوتا تھا۔ میسرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور حسن تدبیر کے بارے میں خدیجہ کو بتایا۔ نیز خدیجہ کو خود بھی آپ کے بارے میں اچھے تجربات ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدیجہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ آپ کو اپنا رفیق حیات بنائیں ۔ روایات کے مطابق، خدیجہ نے مکہ کی ایک معمر خاتون کے ذریعہ آپ کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا۔ آپ نے اپنے چچا سے مشورہ کے بعد اُس کو قبول کرلیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح خدیجہ کے ساتھ ہو گیا۔ اس تقریب میں دونوں طرف کے اہل خاندان شریک ہوئے۔ نکاح کے وقت خدیجہ کی عمر چالیس سال اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس سال تھی۔ خدیجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح نبوت سے تقریباً پندرہ سال پہلے ہوا تھا۔ ان پندرہ سالوں میں خدیجہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بارے میں قریب سے مشاہدہ اور مطالعہ کا موقع ملا۔ وہ یقین کے درجہ میں سمجھ چکی تھیں کہ محمد بن عبداللہ ہر اعتبار سے ایک کامل انسان ہیں ۔ اُس زمانہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک متلاشی حق تھے ۔ اس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَى (93:7)۔ یعنی، اور تم کو متلاشی پایا تو تم کو راہ دکھائی۔ اس زمانہ میں آپ کا معمول تھا کہ آپ مکہ کے قریب حرا پہاڑ کے ایک غار میں چلے جاتے اور وہاں ذکر وفکر میں مشغول ہو جاتے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ آپ غار حرا سے واپس آئے تو آپ کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار تھے ۔ آپ نے گھر میں داخل ہو کر اپنی اہلیہ خدیجہ سے کہا: زَمِّلُونِي زَمِّلُونِی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3)۔ مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ اسی واقعہ کی طرف قرآن کی ایک ابتدائی سورہ میں اس طرح اشارہ کیا گیا ہے: يَأَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا (73:1-2)۔ یعنی، اے کپڑے میں لپٹنے والے، رات میں قیام کرو مگر تھوڑا حصہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page