Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 152

By Maulana Wahiduddin Khan

خدیجہ نے آپ کی یہ حالت دیکھ کر اس کا سبب دریافت کیا۔ آپ نے جواب دیا کہ آج غارِ حرا میں میرے ساتھ ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد آپ نے وہ تجربہ بتایا جو فرشتہ جبرئیل کی آمد کے وقت پیش آیا تھا کہ وہ پہلی وحی اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (96:1) لے کر آپ کے پاس آئے۔ اس وقت خدیجہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور آپ کے بارے میں وہ تاریخی الفاظ کہے جو سیرت کی کتابوں میں اس طرح نقل ہوئے ہیں: فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3) خدیجہ نے کہا کہ ہرگز نہیں، بخدا، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ رشتہ داروں کا حق ادا کرتے ہیں اور لوگوں کے بوجھ کو اٹھاتے ہیں اور مفلس کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں اور مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملہ میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت 610ء میں ملی۔ یہ زمانہ مذہبی عدم رواداری کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں مذہبی آزادی کا وجود نہ تھا۔ چنانچہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو اُس وقت انہیں مشرکین کی طرف سے سخت مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت خدیجہ پورے معنوں میں آپ کی رفیقۂ حیات ثابت ہوئیں۔ وہ فوراً ہی آپ کی نبوت پر ایمان لائیں اور آپ کے مشن کے سلسلہ میں آپ کی کامل مددگار بن گئیں ۔ اُن کی مدد اور رفاقت کے سلسلہ میں کئی مؤثر واقعات سیرت اور حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی آئی اور ایک نئے تجربہ کی بنا پر آپ اس پر گھبرا اُٹھے، اُس وقت خدیجہ نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اِس وقت مکہ میں ایک عالم رہتے تھے۔ اُن کا نام ورقہ بن نوفل تھا۔ جاہلیت کے زمانہ میں انہوں نے بائبل کا مطالعہ کیا تھا اور انہوں نے مسیحی مذہب اختیار کر لیا تھا۔ روایت میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page