Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

آیا ہے کہ خدیجہ آپ کو لے کر ورقة بن نوفل کے پاس گئیں جو آپ کے رشتہ دار بھی تھے۔ خدیجہ نے ان کو آپ کا حال بتایا۔ ورقة بن نوفل نے آپ کی کیفیت اور آپ کے پاس جبریل کی آمد کا واقعہ سنا اور پھر کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں ورقہ کی جان ہے، اے خدیجہ، تم نے جو کچھ بتایا اگر وہ سچ ہے تو محمد کے پاس وہی عظیم فرشتہ آیا ہے جو موسیٰ کے پاس آتا تھا۔ اور محمد بلا شبہ اس امت کے پیغمبر ہیں (سیرۃ ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 238)۔ نبوت کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا وقت توحید کے مشن میں صرف ہونے لگا۔ تجارت بھی چھوٹ گئی۔ اس کے بعد آپ کی پوری کفالت، نیز مشن کے سلسلہ میں سارے اخراجات کی ذمہ دار خدیجہ بن گئیں۔ انہوں نے اپنی پوری دولت آپ کے لیے اور آپ کے مشن کے لیے وقف کر دی۔ قرآن کی اس آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى (93: 8) یعنی، اور تم کو نادار پایا تو تم کو غنی کر دیا۔ اُس زمانہ میں مکہ میں بت پرستی کا رواج تھا۔ مکہ کے لوگ شرک میں مبتلا تھے۔ ایسی حالت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت توحید لوگوں کو سخت نا گوار ہوتی تھی۔ انہوں نے آپ کو طرح طرح سے ستانا شروع کیا۔ وہ آپ کے راستہ میں رکاوٹیں ڈال دیتے۔ آپ کے گھر کے پاس آکر شور کرتے۔ ان تمام مصیبتوں میں خدیجہ پورے صبر اور خوش دلی کے ساتھ شریک رہیں ۔ انہی حالات میں ایک بار ایسا ہوا کہ فرشتہ جبریل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اُس نے کہا کہ میری طرف سے اور میرے رب کی طرف سے خدیجہ کو آپ سلام پہنچا دیں اور اُن کو یہ خوش خبری دے دیں کہ ان کے لیے جنت میں یاقوت کا ایک گھر ہو گا جس میں شور ہو گا اور نہ تکلیف: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ، أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page