Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

مِنْ رَّبِّهَا وَمِنِّيْ وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيْهِ، وَلَا نَصَبَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3820)۔ مکی دور کے آخری زمانہ میں مکہ کے مشرک سرداروں نے آپ کے خلاف ایک بے حد سنگین فیصلہ کیا۔ انہوں نے متفقہ طور پر ایک صحیفہ تیار کیا جس کو کعبہ کے اندر آویزاں کیا گیا۔ اس صحیفہ میں لکھا گیا تھا کہ مکہ میں کوئی شخص محمد اور ان کے خاندان کے ساتھ خرید و فروخت نہیں کرے گا۔ ان کے ساتھ نکاح یا قرابت کا معاملہ نہیں کرے گا، وغیرہ۔ یہ صحیفہ دراصل مقاطعہ (بائیکاٹ) کا فیصلہ تھا۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مجبور ہو کر مکہ کے قریب ایک پہاڑی گھاٹی میں چلے گئے جس کو شعب ابی طالب کہا جاتا تھا۔ اس بائیکاٹ میں خدیجہ بھی ان کے ساتھ شریک تھیں۔ شعب ابی طالب کی یہ زندگی بے حد تکلیف کی زندگی تھی۔ وہاں نہ آرام تھا اور نہ کھانے پینے کا سامان۔ حتیٰ کہ درخت کی جڑیں اور پتیاں کھانے کی نوبت آگئی۔ مکہ کے بعض رحم دل حضرات رات کے اندھیرے میں کچھ کھانے کا سامان بھی پہنچا دیتے ۔ مگر وہ بالکل کافی نہ تھا۔ چنانچہ خدیجہ سخت بیمار ہوگئیں۔ اُن کا رنگ کالا پڑ گیا۔ وہ نہایت صبر کے ساتھ اس تکلیف کو جھیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ ہجرت سے تین سال پہلے مکہ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ام سلمہ بنت ابو اُمیہ ام سلمہ مکہ کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے پہلے شوہر کا نام ابو سلمہ تھا۔ دونوں نے مکی دور میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ مکہ میں جب مخالفین کی طرف سے مصائب بڑھے تو دونوں ہجرت کر کے حبش چلے گئے۔ بعد کو دونوں نے دوبارہ ہجرت کی اور مدینہ آگئے۔ ام سلمہ کے پہلے شوہر ابو سلمہ بدر اور احد کی جنگوں میں شریک ہوئے ۔ وہ اس جنگ میں زخمی ہو گئے ۔ اُن کا زخم پہلے علاج کے بعد اچھا ہو گیا تھا اور پھر دوبارہ لوٹ آیا۔ 4ھ میں انہوں نے وفات پائی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page