Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک بار میرے شوہر ابو سلمہ گھر میں آئے اور کہا کہ آج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سن کر آیا ہوں جو میرے نزدیک دنیا اور مافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ وہ یہ کہ جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ انا للہ پڑھے اور اس کے بعد یہ دعا مانگے کہ اے اللہ، میں تجھ سے اپنی اس مصیبت میں اجر کی امید رکھتا ہوں۔ اے اللہ، تو مجھ کو اس کا نعم البدل عطا فرما: اَللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِيْ، فَأَجِرْنِيْ فِيْهَا، وَأَبْدِلْ لِيْ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 3119)۔ احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ ام سلمہ کو اپنے شوہر ابو سلمہ سے نہایت گہرا تعلق تھا۔ ایک بار ام سلمہ نے اپنے شوہر ابو سلمہ سے کہا: میں نے سنا ہے کہ اگر کسی عورت کا شوہر جنتی ہو اور عورت اس کے بعد دوسرا نکاح نہ کرے تو اللہ اس عورت کو بھی شوہر کے ساتھ جنت میں جگہ دیتا ہے۔ یہی صورت مرد کے لیے ہے۔ تو آؤ ہم تم معاہدہ کر لیں۔ نہ تم ہمارے بعد نکاح کرو، نہ میں تمہارے بعد نکاح کروں، ابوسلمہ نے جواب دیا۔ کیا تم میری اطاعت کروگی۔ ام سلمہ نے کہا کہ سوائے تمہاری اطاعت کے مجھے کس بات میں خوشی ہوتی ہے۔ ابوسلمہ نے کہا: جب میں مر جاؤں تو میرے بعد تم نکاح کر لینا ۔ پھر ابوسلمہ نے دعا مانگی ۔ یا اللہ، میرے بعد ام سلمہ کو مجھ سے بہتر ساتھی عطا فرما۔ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ابوسلمہ مر گئے تو میں اپنے دل میں کہتی تھی کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوگا۔ اس کے کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا نکاح ہو گیا (مسند احمد، حدیث نمبر 26697)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے وقت ام سلمہ کو دو چکیاں، دو مشکیزے، ایک چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی عنایت فرمایا۔ یہی سامان آپ نے دوسری بیویوں کو بھی دیا تھا۔ ام سلمہ قریش کے ایک سردار کی بیٹی تھیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اُن کی پوری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page