Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

زندگی سادگی اور قناعت کی زندگی بن گئی۔ ام سلمہ نے جو حدیثیں روایت کی ہیں ان کی تعداد 378 ہے۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سننے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن وہ حجرہ کے اندر اپنا بال درست کر رہی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنتے ہی آپ فوراً بال کو اسی حال میں باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور قریب ہو کر پورا خطبہ سنا۔ ام سلمہ قرآن کی تلاوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز پر کرتی تھیں۔ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح قرآن پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایک ایک آیت الگ الگ کر کے پڑھتے تھے۔ اس کے بعد خود اسی طرح پڑھ کر بتایا۔ ام سلمہ ایک ذہین خاتون تھیں ۔ وہ بہت جلد معاملہ کی گہرائی تک پہنچ جاتی تھیں۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے مشرکین کے اصرار پر مکہ جا کر عمرہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور حدیبیہ ہی سے واپس مدینہ آگئے۔ آپ اور آپ کے اصحاب قربانی کے اونٹ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ آپ نے فیصلہ کیا کہ ان جانوروں کو حدیبیہ کے مقام پر ہی ذبح کر دیا جائے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ پیش آیا جس سے ام سلمہ کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ واقعہ البخاری کی روایت کے مطابق یہ تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب معاہدہ حدیبیہ کی کتابت سے فارغ ہوئے تو آپ نے اپنے اصحاب سے کہا کہ اٹھو اور قربانی کے جانور کو یہیں (حدیبیہ میں) ذبح کر دو اور اپنے سر کا حلق کرالو۔ راوی کہتے ہیں کہ خدا کی قسم، ان میں سے کوئی بھی شخص نہ اٹھا۔ یہاں تک کہ آپ نے تین بار فرمایا۔ پھر جب ان میں سے کوئی نہ اٹھا تو آپ ام سلمہ کے پاس آئے جو اس وقت خیمے کے اندر تھیں۔ آپ نے ان سے وہ بات بتائی جو لوگوں کی طرف سے آپ کو پیش آئی تھی۔ ام سلمہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، اگر آپ ایسا چاہتے ہیں تو آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page