Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

جائیے اور کسی سے کوئی بات نہ کیجئے ۔ یہاں تک کہ آپ اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کردیں اور اپنے خالق کو بلائیں اور اس سے اپنا سر مونڈالیں۔ چنانچہ آپ نکلے۔ آپ نے کسی سے کوئی بات نہ کی۔ یہاں تک کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔ آپ نے اپنی قربانی کے جانور کو ذبح کر دیا اور اپنے خالق کو بلا کر اپنا سر مونڈ لیا۔ پھر جب لوگوں نے اس کو دیکھا تو وہ بھی اٹھے اور انہوں نے اپنے جانور کو ذبح کیا اور ایک دوسرے کا سر مونڈ نے لگے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ غم کی وجہ سے ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2732)۔ اوپر کے واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت ام سلمہ عقل مند خاتون تھیں ۔ اسی کے ساتھ ان کا دینی ذوق بہت بلند تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو اس قابل بنایا تھا کہ وہ حقیقی معنوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقۂ حیات بن سکیں۔ مذکورہ قسم کا واقعہ کسی کی زندگی میں اچانک پیش نہیں آسکتا۔ ایسا کوئی واقعہ صرف اُس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ کسی عورت یا مرد نے اپنے آپ کو اسلام کے مشن میں پوری طرح شامل کر لیا ہو۔ تاریخ میں جو اعلی خواتین گزر رہی ہیں اور جن کو نمونہ کی خواتین کہا جا سکتا ہے، ان میں سے چند خواتین کا مختصر تذکرہ اوپر کیا گیا۔ ان میں سے ہر خاتون کی زندگی مختلف حالات میں گزری۔ اس اعتبار سے ہر ایک کی زندگی میں مختلف قسم کے نمونے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر خاتون نے اپنے حالات میں سچائی پر عمل کیا۔ ان میں سے ہر خاتون کو ماڈل خاتون کہا جا سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page