عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
عورت کا کردار قرآن کے بیان کے مطابق، حضرت موسیٰ کے ذریعہ بنی اسرائیل کو جو احکام دیے گئے ان میں سے ایک حکم وہ تھا جو قرآن میں اس طرح مذکور ہوا ہے: اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھر مقرر کر لو اور اپنے ان گھروں کو قبلہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور اہل ایمان کو خوشخبری دے دو (10:87)۔ قبلہ کے معنی عربی زبان میں مرجع یا مرکز توجہ کے ہیں۔ یہاں گھروں کو قبلہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی بستیوں میں کچھ گھروں یا ان گھروں کے بعض مناسب حصوں کو اس مقصد کے لیے مخصوص کر دیا جائے کہ وہ حضرت موسیٰ کی دینی جدوجہد کے لیے مرکز کے طور پر کام دیں۔ یہاں تنظیمی اجتماعات ہوں، باہمی مشورے ہوں، دعوتی عمل کی خاموش منصوبہ بندی کی جائے اور لوگوں کی دینی تربیت کی جائے۔ گھر کو قبلہ بنانے کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، گھر کو ایک ادارہ (institutions) کا درجہ دینا ہے۔ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ مسلم آبادی کا ہر گھر یا کم از کم کچھ گھر ایسا ہونا چاہیے جو معروف معنوں میں صرف گھر نہ ہو بلکہ وہ ایک دینی ادارہ بن جائے۔ وہ دینی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے مرکز کا کام دینے لگے۔ گھر کو ادارہ کا درجہ دے کر اُس کو مرکز بنانا آپ عورت کے کردار کو متعین کر دیتا ہے۔ گھر کا تصور عورت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جب ایک گھر دینی اور دعوتی مرکز کا درجہ حاصل کر لے تو اس کے نظام میں عورت کو اپنے آپ ایک مرکزی مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ اس تعلیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کے وسیع تر کردار کے بارے میں پیغمبرانہ مذہب کا نقطہ نظر کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader