عورت سرمایہ حیات
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی بات قرآن میں ازواجِ رسول کے حوالے سے کہی گئی ہے۔ چنانچہ ازواجِ رسول کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا (33:34)۔ یعنی، اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے اس کا تذکرہ کرو۔ بے شک اللہ باریک بیں ہے، خبر رکھنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں ازواجِ رسول کی ایک ذمہ داری کو بتایا گیا ہے۔ وہ ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو قرآن کی جو تعلیمات مل رہی ہیں اور حکمت کی جو باتیں وہ سُن رہی ہیں ان کو وہ دوسروں تک پہنچائیں۔ وہ ان باتوں کا چرچا کریں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ازواجِ رسول کے گھر کو ایک تعلیمی ادارہ یا ایک دعوتی مرکز کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ یہ بات صرف ازواجِ رسول کے گھر کے بارے میں نہیں بلکہ وہ ہر مسلمان کے گھر کے بارے میں ہے۔ ازواجِ رسول کے گھر کو اس معاملہ میں گویا ماڈل کا درجہ حاصل ہے۔ ازواجِ رسول کی حیثیت امہات المومنین بالفاظ دیگر معلمَات المسلمین کی ہے۔ اُن کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ پیغمبر کے قریب رہ کر جو کچھ سیکھیں اُس کو بقیہ لوگوں تک پہنچادیں۔ اور پھر یہ سلسلہ امت میں برابر جاری رہے۔ دورِ اول میں ازواجِ رسول کے گھر کو بھی یہ حیثیت حاصل تھی اور اصحابِ رسول کے گھر کو بھی۔ یہاں اس قسم کی دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں: انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین آدمی ازواجِ رسول کے گھر پر آئے۔ انھوں نے ازواجِ رسول سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ پھر جب اُنہیں اس کے بارے میں بتایا گیا تو گویا کہ اُنھوں نے اس کو کم سمجھا۔ اُنھوں نے کہا کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقابلہ۔ اللہ نے آپ کی اگلی اور پچھلی خطاؤں کی مغفرت کر دی ہے۔ اُن میں سے ایک نے کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader