زوجین کا اصول
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
زوجین کا رشتہ اگر صحیح طور پر قائم ہو اور دونوں ایک دوسرے کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھیں تو شادی شدہ زندگی اختیار کرنے کے بعد ہر گھر ایک ادارہ (institution) بن جائے۔ یہ ادارہ عورت اور مرد دونوں کے لیے ایک ایسا مرکز حیات ہوگا جو دونوں فریق کے لیے سب سے بڑی طاقت ہو۔ جو دونوں فریق کو اس قابل بنائے کہ وہ زندگی کے سفر میں کبھی اپنے کو تنہا نہ سمجھیں۔ وہ ناموافق حالات میں بھی زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رکھیں، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل پر پہنچ جائیں۔ قرآنی تصور کے مطابق، سماجی زندگی میں عورت اور مرد کے درمیان تقسیم کار کا اُصول رکھا گیا ہے۔ اس بنا پر دونوں صنفوں کا میدانِ کار (work place) بنیادی طور پر الگ الگ رہتا ہے۔ گویا کہ دونوں ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں جو ایک دوسرے سے الگ الگ بھی ہیں اور اپنی مشترک کارکردگی کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے بھی ہیں۔ جدید تہذیبی تصور میں یہ نقشہ بالکل مختلف ہو جاتا ہے۔ اس نقشہ میں تقسیم کار کے بجائے توحید کار کے اصول کو اختیار کیا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں اگرچہ آج بھی عملاً زیادہ تقسیم کار کا اصول ہی رائج ہے۔ مگر نظری اعتبار سے جو ہونا چاہیے وہ یہی ہے کہ دونوں صنفوں میں مکمل طور پر توحید کار کا اصول اختیار کیا گیا ہو۔ اگرچہ غیر فطری اصول ہونے کی بنا پر اس قسم کی مفروضہ توحید کار نہ تو ممکن ہے اور نہ بالفعل وہ کہیں پائی جاتی ہے۔ اسلام میں عورت اور مرد کے درمیان جس صنفی فرق کو تسلیم کیا گیا ہے وہ صرف عملی ضرورت کی بنا پر ہے۔ اس کے علاوہ جہاں تک عزت اور حقوق کی بات ہے، دونوں صنفوں کے درمیان مکمل برابری ہے۔ عزت اور احترام کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کسی بھی قسم کا فرق و امتیاز جائز نہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، دنیا کی ہر چیز میں زوجین (pair) کا اصول رکھا گیا ہے۔ یہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader