Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

گا۔ اور دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ دن میں روزہ رکھوں گا اور اس کو کبھی نہ چھوڑوں گا۔ اور تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہ کروں گا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے (آپ کو یہ بات معلوم ہوئی) تو آپ نے کہا کہ کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے۔ تو سن لو کہ خدا کی قسم، میں تم لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور زیادہ متقی ہوں۔ لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور روزہ نہیں بھی رکھتا۔ اور میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ (یہ میرا طریقہ ہے) اور جو میرے طریقہ کو پسند نہ کرے وہ مجھ سے نہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5063)۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ازواجِ رسول کا گھر عمومی تعلیم اور دعوت کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لوگ وہاں آکر اسلام کی تعلیم حاصل کرتے تھے تعلیم و دعوت کا یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی قائم تھا اور آپ کی وفات کے بعد بھی برابر جاری رہا۔ یہ نمونہ جو ابتدائی دور میں ازواجِ رسول کے ذریعہ قائم کیا گیا، وہی اہل اسلام سے ہمیشہ کے لیے اور ہر دور میں مطلوب ہے۔ ام الدرداء ابو الدرداء ایک مشہور صحابی ہیں ۔ ان کی وفات کے بعد عون بن عبد اللہ بن عتبہ ان کی زوجہ ام الدرداء کے پاس آئے۔ انھوں نے ابو الدرداء کی زوجہ سے پوچھا کہ ابو الدرداء کا افضل عمل کیا تھا: مَا كَانَ أَفْضَلَ عَمَلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ۔ دوسری روایت میں ہے کہ اُنھوں نے پوچھا کہ ابو الدرداء کثرت سے کون سا عمل کرتے تھے : مَا كَانَ أَكْثَرُ عَمَلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ۔ اس کے جواب میں اُن کی زوجہ ام الدرداء نے کہا کہ سوچنا اور عبرت پکڑنا: التَّفَكُّرُ وَالِاعْتِبَارُ (حلیۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 208)۔ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی زوجہ کے بیان کے مطابق ، اُن کی خاص عبادت یہ تھی کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page