Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 161

By Maulana Wahiduddin Khan

ہمیشہ سوچتے رہتے تھے اور چیزوں سے عبرت پکڑتے تھے۔ اس عبرت پذیری کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک بار ان کے سامنے ایک بیل گاڑی گزری۔ اس کو دو بیل کھینچ رہے تھے۔ درمیان میں ایک بیل بیٹھ گیا اور ایک بیل کھڑا رہا۔ اس پر گاڑی والے نے بیٹھنے والے بیل کو مارا۔ اس کو دیکھ کر ابو الدرداء نے کہا کہ : إِنَّ فِي هَذَا لَمُعْتَبَرًا (حليۃ الاولیاء، جلد 1، صفحہ 209)۔ یعنی، بے شک اس واقعہ میں ایک نصیحت ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عبرت پذیری کیا ہے۔ وہ ہے دنیا کے واقعہ سے آخرت کا سبق لینا ۔ ابو الدرداء کے سامنے بیل کے بیٹھنے کا جو واقعہ ہوا وہ ایک دنیوی واقعہ تھا۔ مگر اس دنیوی واقعہ سے انھوں نے ایک اخروی سبق نکالا۔ وہ یہ کہ جس طرح دنیا میں ڈیوٹی نہ کرنے پر سزا ملتی ہے، اسی طرح آخرت میں ان لوگوں کو خدا کی طرف سے سزا دی جائے گی جنہوں نے خدا کے احکام کی خلاف ورزی کی۔ اس طرح اسلام کی پوری تاریخ میں اہل ایمان کا گھر مسلسل طور پر دعوت تعلیم کا مرکز بنا رہا۔ خواتین فطری طور پر اس مرکز میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتی تھیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلامی تاریخ کا تسلسل زیادہ تر وداداروں کے ذریعہ قائم رہا ہے۔ داخلی اعتبار سے گھر، اور خارجی اعتبار سے مسجد۔ رابعہ بصری رابعہ بصری ایک معروف مسلم خاتون ہیں۔ اُن کے بارے میں بہت سے عجیب و غریب واقعات کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں۔ اُن کے بارے میں غالباً کوئی تحقیقی کتاب موجود نہیں۔ تاہم حسب ذیل کتابوں میں ان کے حالات دیکھے جاسکتے ہیں۔ ابو نعیم الاصفہانی حلية الأولياء و طبقات الاصـفھـاء ابن الجوزی صفوة الصفوة

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page