Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

شہاب الدین سہروردی عوارف المعارف ابن کثیر البدایۃ والنہایۃ خیر الدین الزرکلی الأعلام ابوداؤدالسجستانی نے رابعہ بصری پر زندقہ کا الزام لگایا ہے۔ مگر بظاہر یہ انتہا پسندی کی بات معلوم ہوتی ہے۔ رابعہ بصری بلاشبہ ایک عابدہ اور زاہدہ خاتون تھیں۔ وہ صوفیا کے طریقہ کے مطابق، اکثر دن کو روزہ رکھتیں اور رات کو نماز پڑہتیں ۔ اپنی زاہدانہ زندگی کی وجہ سے اُنھوں نے شادی نہیں کی۔ اگر چہ کئی لوگوں نے ان کو شادی کا پیغام دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان پیغام دینے والوں میں حسن بصری بھی شامل تھے۔ رابعہ بصری کا پورا نام اس طرح تھا: رابعہ بنت اسماعیل العدویۃ، ام الخیر۔ ان کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات کے بارے میں اختلاف ہے۔ معروف روایت کے مطابق، وہ 718ء میں بصرہ میں پیدا ہوئیں اور 801ء میں بصرہ میں ان کا انتقال ہوا۔ ایک اور روایت کے مطابق، ان کی وفات قدس میں ہوئی ۔ رابعہ بصری کے حالات میں اکثر طلسماتی واقعات بیان کیے جاتے ہیں جو درست معلوم نہیں ہوتے۔ مختصر یہ کہ رابعہ بصری ابتدائی دور کے صوفیا میں سے سمجھی جاتی ہیں ۔ وہ دنیوی زندگی سے الگ ہو گئی تھیں اور زیادہ تر عبادت میں مشغول رہتی تھیں ۔ وہ بصرہ کے ایک غریب خاندان میں پیدا ہوئیں۔ رابعہ بصری کے والدین بچپن ہی میں انتقال کر گئے ۔ ان کی تین بہنوں کی بھی جلد ہی وفات ہوگئی۔ ان کی زندگی بڑی عسرت میں گزری۔ آخر کار وہ بصرہ میں ایک حجرہ کے اندر رہنے لگیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار ایک نامور صوفی سفیان ثوری رابعہ سے ملنے آئے اور اُنھوں نے ہاتھ اٹھا کر دنیا کی بھلائی کے لیے دعا مانگی۔ اس پر رابعہ بصری رونے لگیں۔ جب اُن سے اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page