Urdu book · عورت معمارِ انسانیت

عورت سرمایہ حیات

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

کی وجہ دریافت کی گئی تو انھوں نے کہا کہ: "حقیقی خوشی اور بھلائی تو دنیا سے کنارہ کشی سے حاصل ہوتی ہے اور آپ اسی دنیا میں بھلائی چاہتے ہیں۔" وہ جسمانی تکلیفوں کو صبر و شکر کے ساتھ برداشت کرتی تھیں۔ کوئی تکلیف انہیں خدا کی یاد سے غافل نہیں کرتی تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں خدا کی عبادت کسی جزا یا انعام کی خاطر نہیں کرتی ہوں اور نہ دوزخ کے خوف یا جنت کی خواہش سے کرتی ہوں۔ ایک دوسرے موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہ کیا آپ شیطان سے نفرت کرتی ہیں، رابعہ بصری نے کہا کہ نہیں، خدا کی محبت نے میرے لیے اتنی گنجائش ہی نہیں چھوڑی کہ میں شیطان سے یا کسی سے نفرت کروں۔ رابعہ بصری شعر بھی کہتی تھیں ۔ ان کے بہت سے عربی اشعار کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں ۔ ان کے اقوال میں صوفیانہ مزاج پایا جاتا ہے۔ ان کا ایک قول یہ ہے : اِکتموا حسناتکم کما تکتمون سیئاتکم ۔ یعنی ، تم اپنی نیکیوں کو چھپاؤ، جس طرح تم اپنی برائیوں کو چھپاتے ہو (الأعلام للزرکلی، جلد 3، صفحہ 10)۔ رابعہ بصری سے اکثر لوگ دینی اور روحانی فیض کے لیے ملتے تھے اور وہ ان کو مذکورہ قسم کی تعلیم دیتی رہتی تھیں۔ وہ اپنے ماحول میں لوگوں کے لیے معلم اور مربی بنی ہوئی تھیں۔ انھوں نے بہت سے لوگوں کو اپنے قول و عمل سے متاثر کیا۔ رابعہ بصری اس زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں جس کو تابعین کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ یعنی ان لوگوں کا زمانہ جنھوں نے اصحاب رسول کو دیکھا تھا۔ مگر میں نے کتابوں میں ایسا کوئی واقعہ نہیں پڑھا جس میں بتایا گیا ہو کہ ان کی ملاقات فلاں صحابی سے ہوئی تھی۔ بہر حال زمانی اعتبار سے ان کو تابعی کہا جاسکتا ہے۔ رابعہ بصری اور مشہور تابعی حسن بصری (728-642ء) دونوں ہم عصر ہیں۔ دونوں کے بارے میں کسی حد تک یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ اپنے زمانہ میں روحِ اسلام کا احیاء چاہنے والے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page